روایتی عدالتی نظام سے ہٹ کر ثالثی کا نظام ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کیوں ضروری ہے؟

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں روایتی عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ متبادل تنازعات کے حل (آلٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن – اے ڈی آر) کا نظام بھی مؤثر طور پر رائج ہے جہاں حکومتوں کے لائسنس یافتہ ثالث کاروباری اور دیگر تنازعات کو فریقین کی رضامندی سے حل کرواتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی سرمایہ کاری کا نیا امکان، کلور پاکستان کے 23 فیصد شیئرز کی فروخت متوقع

ایڈووکیٹ حسنین کاظمی حکومت پاکستان کی اس کمیٹی کے رکن ہیں جو ملک میں عدالتی نظام کے اس متبادل طریقہ کار کے تحت ثالثین کو لائسنسز جاری کرنے کے عمل کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس پیرس میں پاکستان کے نامزد رکن بھی ہیں جبکہ پاک رومانیہ بزنس کونسل کے لیڈ اے ڈی آر (آلٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اے ڈی آر کو مضبوط بنانا ضروری ہے

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ حسنین کاظمی نے کہا کہ اے ڈی آر نظام دراصل ایز آف ڈوئنگ بزنس (کاروبار کرنے میں آسانی) کا اہم حصہ ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اس کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں بزنس کونسلز کا قیام کاروباری روابط بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے اور ان ہی پلیٹ فارمز میں اے ڈی آر سسٹم کو شامل کیا جاتا ہے تاکہ تنازعات فوری اور مؤثر انداز میں حل ہو سکیں۔

پاکستان میں اے ڈی آر نظام کی ترقی اور چیلنجز

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اے ڈی آر کا تصور نسبتاً نیا ہے تاہم اس پر کام جاری ہے اور عدلیہ بھی اس نظام کی حمایت کر رہی ہے۔ وفاقی وزارت قانون و انصاف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس شعبے کی بہتری کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

حسنین کاظمی کے مطابق اے ڈی آر کے مؤثر نفاذ کے لیے 3 بنیادی عناصر نہایت ضروری ہیں جن میں اعتبار، یقین اور شفافیت شامل ہیں جن کے بغیر یہ نظام مؤثر نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات ایک رات میں ممکن نہیں اس کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 7 فیصد اضافہ

انہوں نے وضاحت کی کہ اے ڈی آر ایک ایسا نظام ہے جس میں تنازع کا حل فریقین خود ثالث کی مدد سے طے کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ طریقہ کار طویل عرصے سے کامیابی سے چل رہا ہے جبکہ پاکستان میں یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق اگر کاروباری تنازعات عدالتوں میں جائیں تو معاملات طویل اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں جبکہ ثالثی کے ذریعے ان کا فوری حل کاروبار کے تسلسل کے لیے بہتر ہے۔

قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت

ایڈووکیٹ حسنین کاظمی نے زور دیا کہ اے ڈی آر نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مضبوط قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک ضروری ہے جو لائسنس یافتہ ثالثوں کی نگرانی کرے۔ اگر کوئی ثالث قواعد کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف کارروائی، جرمانہ اور لائسنس کی منسوخی جیسے اقدامات ہونے چاہییں۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ نظام کے تحت صرف تربیت یافتہ افراد کو ہی ثالثی کے لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاری اور اعتماد کا مسئلہ

غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق وہ 2003 سے 2025 تک بورڈ آف انویسٹمنٹ کے رکن بھی رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے سب سے اہم چیز ایز آف ڈوئنگ بزنس ہے، جس میں تنازعات کا فوری حل، ٹیکس پالیسی کا تسلسل، کاروباری تحفظ اور ذاتی سلامتی شامل ہیں۔

حکومتی اقدامات اور موجودہ صورتحال

حکومتی کوششوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ پہلے بورڈ آف انویسٹمنٹ تھا، اور اب ایس آئی ایف سی کے ذریعے ون ونڈو آپریشن فراہم کیا جا رہا ہے، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو لائسنسنگ اور دیگر سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر دی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق کمیٹی کا اجلاس

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے اور حکومت سرمایہ کاری کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے، تاہم اعتماد کی بحالی میں وقت لگتا ہے۔

بین الاقوامی معاہدے اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت

حسنین کاظمی نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ کیے گئے مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) تب ہی مؤثر ہوتی ہیں جب حکومت، بزنس کمیونٹی، چیمبرز آف کامرس، فیکٹری مالکان، اسٹارٹ اپس اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔

یہ بھی پڑھیے: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے اقدامات، غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

ان کے مطابق پاکستان میں آئی ٹی ماہرین، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ہنرمند افراد کے لیے ایسے پلیٹ فارمز بنانے کی ضرورت ہے جہاں وہ عالمی معیار کے مطابق خدمات فراہم کر سکیں اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp