سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 2000 میں دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست منظور کر لی۔
عدالت عظمیٰ نے 20 جنوری 2016 کا اکثریتی فیصلہ بھی منسوخ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کردیا۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کے تحریر کردہ فیصلے کے مطابق، کسی بھی شخص کو ماضی میں کیے گئے کسی فعل پر اس وقت کے قانون سے زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: فاتحہ خوانی کی تقریب میں کراس فائرنگ کیس، سپریم کورٹ نے مجرم کو بری کر دیا
فیصلے میں قومی احتساب بیورو کے 1999 کے نیب آرڈیننس کا 1996 کے الزامات پر اطلاق آئینی طور پر غلط قرار دیا گیا ہے، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 میں مقرر کردہ سزائیں سابقہ قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں، اس لیے ان کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ انور سیف اللہ خان کے خلاف رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
SC overturns its own conviction of ex-minister Anwar Saifullah in graft case https://t.co/a1XvYGHROd
— Khalid Munir (@Khalid_Munir) May 13, 2026
فیصلے میں کہا گیا کہ محض انتظامی بے قاعدگی یا طریقہ کار کی غلطی مجرمانہ بدنیتی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
سپریم کورٹ کے مطابق انور سیف اللہ خان نے بطور وفاقی وزیر پیٹرولیم او جی ڈی سی ایل میں تمام تقرریاں اوپن ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی کوتاہی اور مجرمانہ ذمہ داری میں واضح فرق ہے اور دونوں کو ایک نہیں سمجھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: مشترکہ جائیداد پورے کی پوری حق مہر میں نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ
عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ جب کوئی ہائیکورٹ کسی ملزم کو بری کر دے تو اس کی بے گناہی کا تصور مزید مضبوط ہو جاتا ہے، لہٰذا ایسے فیصلے میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں ہی کی جا سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 2016 کے اکثریتی فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کی بریت کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس قانونی بنیادیں موجود نہیں تھیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: خان پور میں دہشتگردی کیس میں مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ اگرچہ نظرثانی کا اختیار محدود ہوتا ہے، تاہم ریکارڈ پر واضح غلطی کی موجودگی میں اس کی اصلاح عدالت کا فرض ہے۔
واضح رہے کہ انور سیف اللہ خان پر 1996 میں بطور وفاقی وزیر پیٹرولیم آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ میں غیر قانونی تقرریوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔














