چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے شہر ننگبو میں افسوسناک واقعے میں ایک دفتر مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گیا جب ایک 12 سالہ بچے نے مبینہ طور پر لاپرواہی کے باعث آگ لگا دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 30 اپریل کو اس وقت پیش آیا جب اسکول کی چھٹیوں کے دوران بچے کو اس کے والدین اپنے ساتھ دفتر لے آئے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بچے کو کچھ دیر کے لیے دفتر میں اکیلا چھوڑ دیا گیا جبکہ والدین قریبی کام میں مصروف تھے۔
یہ بھی پڑھیں: الارم گھڑی سے پہلے لوگ کیسے جاگتے تھے: کھڑکیاں کھٹکھٹانے والے ’نوکر اپرز‘ سے سحری میں جگانے والوں تک
بوریت کے باعث بچے نے مبینہ طور پر لائٹر سے ٹشوز جلانا شروع کیے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چنگاریاں قریب موجود کاغذات اور دیگر سامان تک پہنچ گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے شدت اختیار کر لی اور پورے دفتر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے فرنیچر، کمپیوٹرز اور اہم دستاویزات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم مقامی میڈیا کے مطابق مالی نقصان کی مالیت دسیوں ہزار یوآن بتائی گئی ہے۔ فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا لیکن اس وقت تک دفتر کا بڑا حصہ جل چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
ابتدائی طور پر والدین اور دفتر کے عملے نے خود آگ بجھانے کی کوشش کی بعد ازاں امدادی اداروں کو اطلاع دی گئی۔ حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے سے متعلق کسی قانونی کارروائی یا معاوضے کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔














