وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے کسی فرقے یا مذہبی بنیاد پر پاکستانیوں کو ڈیپورٹ کیے جانے کی اطلاعات درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ذمہ داری کے ساتھ اس معاملے کا جائزہ لیا اور ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے 9 اپریل کے جلسے میں اتنے لوگ آئیں گے ہی نہیں کہ راستے بند کرنے کی ضرورت پڑے، طلال چوہدری
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مکمل طور پر بہتر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات کا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں 17 لاکھ سے زائد پاکستانی قانونی طور پر مقیم ہیں، جو نہ صرف یو اے ای بلکہ پاکستان اور اپنے خاندانوں کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکوں کے بارے میں جلد بازی میں نتائج اخذ نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ اس سے مستقبل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر کسی پاکستانی کو کوئی شکایت ہوگی تو حکومت اس کا مکمل نوٹس لے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر پاکستانی کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرتی ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا رنگ سے ہو۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان برطانیہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق، طلال چوہدری اور ایڈورڈ لیولین کی اہم ملاقات
دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ وفاق اور صوبے مل کر لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تقاریر کے بجائے کارکردگی کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔
انہوں نے قومی ایکشن پلان پر ایوان میں تفصیلی بحث کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دیکھا جائے کس صوبے اور ادارے نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کیا کردار ادا کیا، کہاں عملدرآمد ہوا اور کہاں نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی صوبے میں دہشت گردی بڑھی ہے تو اس کی وجوہات پر بھی بات ہونی چاہیے۔













