وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پولیس کی اراضی کے مبینہ غیرقانونی استعمال سے متعلق کیس میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو آئندہ ہفتے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے پولیس کی عمارتوں میں قائم دکانیں خالی کرانے سے روکنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے پولیس کی عمارتوں میں قائم دکانیں خالی کرانے سے متعلق حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیے سندھ پولیس کی مبینہ غفلت، 1.5ملین روپے مالیت کے ہتھیار چوری، آڈیٹرجنرل کی رپورٹ میں انکشاف
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سندھ پولیس کو زمین کسی اور مقصد کے لیے دی گئی تھی، مگر اس کا استعمال کسی اور مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’معذرت کے ساتھ، سرکاری زمینوں کے ساتھ یہ کیا سلوک کیا جا رہا ہے؟‘
’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کا بھی تذکرہ
عدالت میں نام لیے بغیر ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کا بھی تذکرہ ہوا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ساتھ والی عمارت کا کیس بھی اسی نوعیت کا ہے، اور اگر اصل مالک کی ملکیت ہی ختم ہو جائے تو رہائشیوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ حیدرآباد اور کراچی کی اراضی ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت کیس کا حصہ نہیں تھیں اور سندھ ہائیکورٹ نے درخواست سے ہٹ کر فیصلہ دیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ کا حکم پورے سندھ کے حوالے سے ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حیدرآباد اور لاڑکانہ میں زمینوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو کیا دکانیں خالی کرانے کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟ اس پر فاروق نائیک نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت جو بھی حکم دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ تاہم جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’عدالتی حکم کی نہیں، آپ کی گارنٹی کی بات ہو رہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے ’سندھ پولیس سے بچایا جائے ورنہ ہم کراچی چھوڑ دیں گے‘، چینی سرمایہ کار حفاظت کے لیے عدالت پہنچ گئے
فاروق نائیک نے مؤقف اپنایا کہ نوٹس جاری ہونے تک دکانیں خالی کرائی جا رہی ہیں اور پولیس جواب نہیں دے گی۔ اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کیسے سوچ رہے ہیں کہ سندھ پولیس اور حکومت جواب نہیں دیں گے؟‘
عدالت نے واضح کیا کہ دکانیں خالی کرانے پر حکمِ امتناع جاری نہیں کیا جا سکتا۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔














