آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں اور حکومت نے نئے ٹیکس اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 5 جون کو بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کی ہدایت کے مطابق ٹیکس آمدن میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں عوام پر 230 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ٹیکس اقدامات کے ذریعے تقریباً 700 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق معاشی ترقی اور مہنگائی کی وجہ سے بھی 1300 ارب روپے سے زیادہ اضافی ٹیکس آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر رسمی سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے، بجٹ پالیسی تجاویز کے جائزے کے لیے اہم اجلاس
حکومت آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 300 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 2000 ارب روپے زیادہ ہو گا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے، مختلف شعبوں کو دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ کم کرنے اور اخراجات محدود کرنے کی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کا کردار اہم ہو گا اور اسی سلسلے میں آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی ٹیکس شرح، معاشی اہداف اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے منصوبوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی: 200 یونٹ بجلی سبسڈی ختم، نیا نظام 2027 سے نافذ
حکومت کی جانب سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ معیشت کا زیادہ حصہ ٹیکس نظام میں لایا جا سکے۔ اسی پالیسی کے تحت نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور آئندہ مالی سال کے دوران 75 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا ہدف رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ بجٹ میں سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم یا محدود کیے جانے، مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس لگانے اور نان فائلرز کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ تاہم حتمی فیصلے آئی ایم ایف سے مذاکرات اور حکومتی مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیے جائیں گے۔













