آج 15 مئی 2026 کو دنیا بھر میں ’عالمی یومِ ماحولیات‘ منایا جا رہا ہے جس کا مقصد موسمیاتی بحران کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے، تاہم جنوبی ایشیا میں اس موقع پر آبی تحفظ اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ: 100 دن گزر گئے، بھارت اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہ دے سکا
ماہرینِ ماحولیات اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تعطلمیں رکھنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے موسمیاتی خطرات کو مزید سنگین بنا رہا ہے، جس سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ معاشی استحکام کو بھی بڑے خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب، خشک سالی اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے مسائل کا شکار ہے، اب آبی گورننس میں غیر یقینی کی وجہ سے مزید دباؤ کا شکار ہورہا ہے۔
تاریخی طور پر 1960 کا سندھ طاس معاہدہ دریاؤں کے بہاؤ میں پیشگوئی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کا ضامن رہا ہے، جس کی بدولت پاکستان آبپاشی، سیلاب کے انتظام اور پانی کے ذخیرے کے نظام کو فعال رکھنے کے قابل رہا۔ تاہم بھارت کے موجودہ رویے نے اس نازک نظام کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں پانی ایک منظم وسائل کے بجائے ایک ہتھیار کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے زراعت پر منحصر نظام، عوامی صحت، توانائی کی سلامتی اور لاکھوں افراد کے روزگار کے لیے ایک براہِ راست خطرہ بن کر ابھری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دریائے سندھ کا طاس پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے جہاں مون سون کی غیر یقینی صورتحال اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ نے ہائیڈرولوجیکل خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ایسی حالت میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے انحراف دریاؤں کے بہاؤ میں مصنوعی تغیر پیدا کرسکتا ہے، جو سیلاب کے دنوں میں تباہی کی شدت کو بڑھانے اور خشک سالی کے ادوار میں پانی کی قلت کو مزید سنگین کرنے کا باعث بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کی وسط 2026 میں فعال ہونے کا امکان، اقوامِ متحدہ کا انتباہ
یہ غیر یقینی صورتحال پاکستان کے ہائیڈرو پاور سسٹم اور توانائی کی منصوبہ بندی کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے، کیونکہ مستحکم دریائی نظام کے بغیر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی ناممکن ہو جاتی ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایک بالائی ریاست ہونے کے ناطے بھارت پر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آبی تعاون کو برقرار رکھے۔ آبی گورننس میں اس طرح کی یکطرفہ رکاوٹیں نہ صرف پاکستان کی خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ یہ پورے خطے میں بڑے پیمانے پر انسانی اور معاشی بحران پیدا کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریوں کو معطل کرنے سے نہ صرف آبی نظام غیر یقینی کا شکار ہوا ہے بلکہ یہ صورتحال پانی کو ایک منظم وسائل کے بجائے ایک ہتھیار میں تبدیل کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس سے پاکستان کی زراعت، عوامی صحت اور توانائی کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
بالائی ریاست کے طور پر بھارت کا یہ رویہ دریاؤں کے بہاؤ میں مصنوعی تبدیلی پیدا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب کے دوران پانی کی شدت میں اضافہ اور خشک سالی کے ادوار میں پانی کی قلت مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
پاکستان نے اس حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط آبی تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔














