امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے اس مبینہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چین نے امریکا کو ‘زوال پذیر قوم’ قرار دیا تو اس سے مراد ان کے بقول سابق صدر جو بائیڈن کا دورِ حکومت تھا، نہ کہ موجودہ ٹرمپ انتظامیہ۔
ٹرمپ نے چین کے دورے کے دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری بیان میں کہا کہ شی جن پنگ نے امریکا کی تنزلی کا ذکر ‘انتہائی شائستگی’ سے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتیں چین اور امریکا مقابلہ نہیں شراکت داری کو ترجیح دیں، چینی صدر شی جن پنگ
صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدر دراصل بائیڈن انتظامیہ کے 4 برسوں میں ہونے والے نقصان کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے میں امریکا کو کھلی سرحدوں، بلند ٹیکسوں، جرائم، متنازع سماجی پالیسیوں اور خراب تجارتی معاہدوں جیسے مسائل کا سامنا رہا۔
NEW: President Trump says China’s leader was right about America’s decline under President Biden — but argues the U.S. has completely rebounded under his administration.
In a lengthy post, Trump touted booming markets, record investment, the "ending" of DEI, and what he called… pic.twitter.com/8dj3TkK7ng
— Fox News (@FoxNews) May 14, 2026
امریکی صدر نے اپنی حکومت کے ابتدائی 16 ماہ کو ‘شاندار’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں پر پہنچی، روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق ان کے دور حکومت میں بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، اور اب امریکا دوبارہ معاشی اور عسکری طاقت بن چکا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران اور وینزویلا سے متعلق پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے مضبوط فوج بن چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مختصر عرصے میں حاصل ہونے والی ‘کامیابیوں’ پر انہیں مبارکباد دی ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ 2 سال پہلے امریکا واقعی تنزلی کا شکار تھا، اس معاملے پر وہ شی جن پنگ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔
‘۔۔۔ لیکن اب امریکا دنیا کی سب سے مقبول اور طاقتور قوم بن چکا ہے۔۔۔ مستقبل میں امریکا اور چین کے تعلقات مزید مضبوط اور بہتر ہوں گے۔’














