تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال، مہنگائی، سیاسی قیدیوں اور عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقدہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کے اہم سربراہی اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ ہاؤس میں مظاہرین کی بنیادی سہولیات تک رسائی پر پابندی غیر انسانی ہے، تحریک تحفظ آئین
سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، لاقانونیت، عمران خان کو فوری اسپتال منتقل کرنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کے حق میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم اسمبلی سے قانون سازی کرانا غیر قانونی عمل ہے جبکہ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
مزید پڑھیں: سابق سینیٹر مشتاق احمد اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہوگئے
اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور تحریک کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، زین شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ساجد ترین، صاحبزادہ حسن رضا، ملک عامر ڈوگر، حلیم عادل شیخ، مشتاق احمد خان، عمار علی جان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ سینئر قانون دان اور سیاستدان اعتزاز احسن نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس کے شرکا نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گورننس، امن و امان، مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس، کے پی میں گورنر راج کی صورت میں مزاحمت کا عزم
اجلاس میں کہا گیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے، کسان اور مزدور شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ تمام معاشی بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا گیا ہے۔ شرکا کے مطابق آنے والا بجٹ ‘آئی ایم ایف کا بجٹ’ ہوگا جس سے عوام پر مزید معاشی دباؤ بڑھے گا۔
اجلاس میں عمران خان سمیت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ مبینہ غیر آئینی اور غیر قانونی سلوک کی شدید مذمت کی گئی، شرکا نے عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا حکومت پر آئین شکنی اور معیشت تباہ کرنے کا الزام
اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور اہل خانہ و سیاسی رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اس کے علاوہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں مبینہ غیر انسانی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا، اجلاس میں حامد رضا، ماہ رنگ بلوچ اور علی وزیر سمیت دیگر زیر حراست رہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں وزیرستان میں احمد زئی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئین اور جمہوریت کی بالادستی ناگزیر ہے۔












