منشتیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو کراچی کی جوڈیشل میجیسٹریٹ عدالت میں پیش کردیا گیا، پیشی کے دوران پنکی کے چہرے کو ڈھانپ دیا گیا۔ پنکی کا عدالت میں پیشی کے دوران شور شرابا کہا کہ مجھے لاہور سے گرفتار کرکے یہاں لائے ہیں، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں، مجھ پر تشدد کیا گیا۔
عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت میں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرسکتا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ کے وکیل اور ملزمہ کا مکمل مؤقف سنا جائے گا ، آپ سانس لیں آرام سے، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا۔
یہ بھی پڑھیں:کوکین کوئین انمول پنکی کن تھانوں کے اہلکاروں کو رشوت دیتی رہی؟ تفتیشی رپورٹ نے سنسنی پھیلا دی
وکیل ملزمہ نے کہا کہ کورٹ روم کا دروازہ بند کر دیں ، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ میں کورٹ کا دروازہ بند نہیں کرسکتا، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا، عدالت نے ملزمہ سے پوچھا کہ کیا نام ہے آپ کا، ’میرا نام انمول ہے‘۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بغدادی تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 147 میں پیش کیا گیا ہے؟ جتنے انویسٹی گیشن آفیسر ہیں عدالت میں رہیں، عدالت نے ملزمہ سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت اب ٹھیک ہے؟ جس پر پنکی نے کہا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن ہے آپ کی؟
وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ ملزمہ کو 15 مئی کو پیش کرنا چاہیے تھا، 22 دن ہوگئے ہیں کبھی کہاں تو کبھی کہاں لے کر جارہے ہیں، انمول نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے وین میں لاہور سے لے کر آئے ہیں، 3 دن سے پوری فیملی پر پرچے دیے جارہے ہیں، تالہ توڑ کر مجھے فلیٹ میں سے لے کر گئے ہیں۔ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے کر گئے تھے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ 3 دن ریمانڈ ملا تھا، کیس میں کیا پیشرفت ہے؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ 7 لوگ گرفتار کیے ہیں وہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری ہورہی ہے، 3 کیسز ہیں معزز عدالت کو صحیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی بہت عرصے سے کام کررہی ہے، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں، 8 سو افراد کے نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کررہی تھی، اس نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے، ملزمہ کے گینگ میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کوکین کوئین انمول پنکی نے اپنا ’جانشین‘ مقرر کردیا، کلائنٹس آگاہ کردیے گئے، آڈیو پیغام لیک
تفتیشی افسر نے عدالت میں بتایا کہ ایک لاش ملی ہے جس کے موبائل سے ان کا نمبر ملا ہے، کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کا بھی انکشاف ہوا ہے، ان کا شناختی کارڈ بلاک ہے، سادہ لوگوں کے ناموں پر نمبر نکلوا کر استعمال کررہے ہیں، 2 دیگر ملزمان کو گرفتار کیا ہے ان کو بھی پیش کریں گے، ایک موبائل ایپ کے ذریعے رقم وصول کرنے والے لڑکے کو گرفتار کیا ہے، ملزمہ اسکرین شاٹ کنفرم کرتی ہے تو ڈیلیوری بھیجتی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے رائیڈرز کو گرفتار کرنا ہے ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے، ہمیں ملزمہ کی نشاندہی پر رائیڈرز کو گرفتار کرنا ہے، ملزمہ کے بھائی پر 6 مقدمات پہلے کے ہیں, ملزمہ پر پرانے کیسز ہیں، چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتا ہے، ابھی ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنا ہے۔
کسٹڈی لیجاتے ہوئے ملزمہ پولیس پر چیخنے لگی، میرا دم گھٹ رہا ہے میرے منہ پر چادر نہ ڈالیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ چادر اوڑھ لیں تاکہ کوئی تنگ نہ کرے آپ کو۔
وکیل ملزمہ نے عدالت میں کہا کہ ہمیں ملزمہ کے ساتھ باہر بیٹھنے دیا بجائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے کیسے باہر بیٹھنے کی اجازت دیں آپ کو، منشیات کا اتنا بڑا نیٹ ورک چلارہی ہے ملزمہ اگر کوئی بھگا کر لے گیا تو کون ذمہ دار ہو گا؟
وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ مجھے انمول سے دیگر مقدمات میں بھی وکالت نامہ سائن کرانا ہے، عدالت نے کہا کہ مین جب آرڈر کردوں تو آپ کرالینا پولیس یا جیل سے ہوسکتا ہے اگر جیل کسٹڈی ہوجائے تو جیل جاکے سائن کرا لیجیے گا، 12سے زائد مقدمات ہیں فیصلہ سنانے میں 2 گھنٹے لگ سکتے۔













