کوکین کوئین انمول پنکی کن تھانوں کے اہلکاروں کو رشوت دیتی رہی؟ تفتیشی رپورٹ نے سنسنی پھیلا دی

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں کوکین کوئین انمول پنکی کے بڑے نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات میں پولیس کی تفتیشی رپورٹ نے سنسنی خیز انکشافات کردیے ہیں، جس کے مطابق منشیات کے دھندے میں نہ صرف کروڑوں روپے کی رشوت کا لین دین ہوا بلکہ کئی سرکاری اداروں کے اہلکار بھی اس مجرمانہ جال میں شامل پائے گئے ہیں۔

 تفتیشی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کررہی تھی اور اس نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھاری رقوم بطور رشوت ادا کی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوکین کوئین انمول پنکی کی گرفتاری، ’یہ ایک دن جیو کے ساتھ شوٹنگ لگ رہی ہے‘

رپورٹ کے مطابق منشیات کنٹرول کرنے والے ایک ادارے کے افسر پر الزام ہے کہ اس نے ملزمان کو متعدد بار گرفتار کرنے کے بعد کروڑوں روپے رشوت لے کررہا کیا، جبکہ مجموعی طور پر متعلقہ افسران کو ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم دی گئی۔

پولیس کی اس جامع رپورٹ میں کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے کے مختلف تھانوں، بالخصوص درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان تھانوں کے اہلکاروں کو ماہانہ لاکھوں روپے رشوت دی جا رہی تھی۔

ملزمہ انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس کے سابق شوہر کے خفیہ اداروں سے قریبی تعلقات ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے منشیات سابق شوہر کے بھائیوں، جو کہ پیشے سے وکیل ہیں، کے چیمبرز میں چھپائی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوکین کوئین انمول پنکی نے اپنا ’جانشین‘ مقرر کردیا، کلائنٹس آگاہ کردیے گئے، آڈیو پیغام لیک

رپورٹ میں ایک شخص کو کراچی کا بدنامِ زمانہ کوکین ڈیلر بھی قرار دیا گیا ہے جو اس نیٹ ورک کا اہم حصہ رہا ہے۔

منشیات کی ترسیل اور مالی معاملات کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ لاہور سے منشیات لانے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ رقم کی منتقلی کے لیے بینک اکاؤنٹس اور موبائل ایپس کا سہارا لیا گیا۔

ملزمہ کا اپنا شناختی کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے سمیر اور ذیشان نامی افراد کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھلوائے گئے تھے، جبکہ زیر استعمال موبائل سمیں بھی افضل اور صابرہ بی بی نامی اشخاص کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: انمول عرف پنکی کے اہلخانہ کے بھی منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا انکشاف

رپورٹ میں ایک پولیس اہلکار کی جانب سے رائیڈرز کو حراست میں لے کر ایک کروڑ روپے بٹورنے کا بھی تذکرہ ہے، جس سے تنگ آکر ملزمہ نے مذکورہ اہلکار کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد منشیات فروشوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مبینہ گٹھ جوڑ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مری ایکسپریس وے پر خوفناک حادثہ، ٹیوٹا ہائی ایس میں آگ لگنے سے 4 افراد جاں بحق، 12 زخمی

جنگ نہیں، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، پاکستان کا امن پیغام

’تم فساد کی جڑ ہو، شکر کرو نوکری میں ہو‘، ضلع عدلیہ بھرتی بے ضابطگی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس

چاقو حملے کے بعد شمالی آئرلینڈ میں پرتشدد مظاہرے، متعدد خاندان بے گھر

’پاکستان آرمی کسی ایک صوبے کی نہیں، شہدا کے لہو سے بنی پوری قوم کی فوج ‘

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟