کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی نئی لہر، 65 افراد ہلاک

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمہوری جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ صحت حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پرتعیش بحری جہاز کا سیاحتی سفر مہلک ہنٹا وائرس کا شکار ہوکر سانحے میں تبدیل کیسے ہوا؟

افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جہاں اب تک 20 میں سے 13 نمونوں میں وائرس مثبت پایا گیا ہے۔ قومی انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کیسز تصدیق شدہ ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 65 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز مونگوالو اور رمپارا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے ہیں، جبکہ چار اموات ایسے مریضوں کی ہیں جن میں لیبارٹری کے ذریعے ایبولا کی تصدیق ہو چکی تھی۔

صحت حکام نے شہر بونیا میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ان کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی۔

افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن خطے میں کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کانگو میں ایبولا کی وبا، 48 میں سے 31 مریض ہلاک

افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کیسیہ نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں اور ہمسایہ ممالک کے درمیان فوری اور مربوط اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا متاثرہ ٹشوز کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات 90 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، سر درد، گلے کی سوزش، قے، اسہال اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا شامل ہے۔

یہ نئی وبا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کانگو نے حال ہی میں صوبہ کاسائی میں ایبولا کی ایک سابقہ لہر کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس میں درجنوں افراد متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین کے مطابق کانگو میں 1976 میں وائرس کی نشاندہی کے بعد یہ اس کی 16ویں بڑی وبا ہے، جو بار بار خطے کے لیے خطرہ بنتی رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، عالمی عدالت ثالثی کا پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ

موسمیاتی تبدیلی، غربت اور رہائشی ناانصافی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، مصدق ملک

ذوالحج کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں جاری

2 اسلامی ملکوں میں ذوالحج کا چاند نظر آنے کی تصدیق، عید الاضحیٰ کی تاریخ کا اعلان

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نئے صوبائی وزرا سے حلف لے لیا

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں