پرتعیش بحری جہاز کا سیاحتی سفر مہلک ہنٹا وائرس کا شکار ہوکر سانحے میں تبدیل کیسے ہوا؟

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بحری جہاز ‘ایم وی ہونڈیئس’ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کردی، جہاں اس مہلک وائرس سے 3 مسافر ہلاک جبکہ متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

جنوبی امریکا کے شہر اوشوائیا سے یکم اپریل کو روانہ ہونے والا یہ کروز جہاز 35 روزہ سفر پر تھا اور اسے کیپ وردے پہنچنا تھا، تاہم وائرس کے پھیلاؤ کے بعد صورتحال سنگین ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے: کروز شپ میں ہنٹا وائرس کی تشویشناک وبا، یہ بیماری کیا ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟

جہاز میں 88 مسافر اور 61 عملے کے ارکان سوار تھے۔ متاثرہ افراد میں ایک 70 سالہ ڈچ شہری، ایک 80 سالہ جرمن خاتون اور ایک اور مسافر شامل ہیں، جبکہ کئی افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہنٹا وائرس چوہوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس کی شرح اموات 50 فیصد تک ہوسکتی ہے، تاہم انسان سے انسان میں منتقلی انتہائی نایاب ہے۔

کیپ وردے کی حکومت نے جہاز کو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا، جس کے بعد جہاز کو اسپین کے جزائرِ کینری کی جانب روانہ کیا گیا۔ اسپین نے سخت حفاظتی اقدامات کے تحت مسافروں کو الگ تھلگ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بحرِ اوقیانوس میں کروز شپ پر ہنٹا وائرس کا شبہ، 3 مسافر ہلاک

جہاز پر موجود بعض مسافروں نے خوف اور غیر یقینی صورتحال پر تشویش ظاہر کی، جبکہ کچھ افراد نے میڈیا کی کوریج کو مبالغہ آمیز قرار دیا۔ عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتحال کورونا وبا جیسی نہیں اور نہ ہی کسی نئی عالمی وبا کا آغاز ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بحری جہازوں میں محدود جگہ، مشترکہ خوراک اور قریبی روابط بیماریوں کے پھیلاؤ کو آسان بناتے ہیں، تاہم بروقت قرنطینہ اور نگرانی سے صورتحال کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp