قدم قدم سوئے حرم

اتوار 17 مئی 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدید سفری سہولیات کے باوجود حج کا پیدل سفرکرنے والے عازمین کا احوال

حافظ آباد کے کھرل زادہ کثرت رائے نے کراچی سے مکّہ تک 6 ہزار 387 کلومیٹرپیدل چل کر حج کی سعادت حاصل کی۔

بوسنیا کے صناد حاذق نے بغیر پیسوں کے سات ممالک اور دو صحراؤں سے گزر کر 5 ہزار 650 کلو میٹر کا سفر طے کیا۔

ترک شہری اقین ینیجیلی نے انقرہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور 3 ہزار 268 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اللہ کے گھر میں حاضری دی۔

اسحاق محمد جزائری نے پیرس سے پیدل چلتے ہوئے 5 ماہ میں 16 ممالک سے گزرتے ہوئے 8 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔

انڈونیشیائی نوجوان محمد خمیم سیتی وان سال بھر پیدل چل کر مکّہ پہنچے۔

آج ہم اپنے کالم میں منفرد عازمین حج کے سفر عشق کی روح پرور داستانیں بیان کریں گے۔

سفر حج میں ہم سے پہلی لوٹ مارعراق میں ہوئی تھی اور دوسری بار ہمارا قافلہ اردن میں لوٹا گیا تھا، اردن میں تو ہم سے پیسوں کے علاوہ راشن اور پانی کے مشکیزے بھی چھین لیے گئے تھے۔ اس کے بعد آگے بڑھنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں بچا تھا۔ اس لیے جو پہلا گاؤں آیا، ہم نے اسی کے باہر پڑائو ڈال دیا۔ ہم میں سے چند لوگ وفد بنا کر گاؤں کی جانب جانے لگے تاکہ انہیں اپنے لٹنے کا بتا کر مدد مانگ لیں۔ ہمیں دور ہی سے آتے دیکھ کر اس گاؤں سے چار پانچ لوگ نکل کر ہماری طرف بڑھنے لگے۔ آدھے راستے میں جب ہم لوگ آمنے سامنے ہوئے تو ہمارے ایک ساتھی نے ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں بتایا کہ ہم پہ کیا گزری ہے۔ حاجیوں کے قافلے لٹنا اس زمانے میں معمول ہوتا تھا، اس لیے وہ لوگ سمجھ گئے اور ہمیں کہاکہ سب قافلے والے گاؤں کے اندر سردار کی حویلی میں آجائو، جو مدد ہوسکی، ضرور کریں گے۔ ان کا سردار بہت بوڑھا مگر ہمدرد انسان تھا، اس نے ہمارے کھانے اور ہمیں ٹھہرانے کا بندوبست کیا۔ رات کو سب گاؤں والے اس کے چھوٹے قلعے جیسی کچی حویلی میں آکر جمع ہوئے۔ وہ لوگ اپنے ساتھ ہماری ضرورت کی اشیا سوکھا راشن، پانی کے مشکیزے اور اپنی اپنی حیثیت کے مطابق تھوڑی تھوڑی رقم بھی لے آئے تھے، یوں ہم نے پردیس میں مانگ تانگ کر حج کیا اور واپسی پر بھی ایسے ہی مانگتے کھاتے کئی ماہ کے پیدل سفر کے بعد اپنے وطن واپس پہنچے تھے تو ہمارے گھر کے لوگ بھی ہمیں پہچان نہیں سکے تھے۔

میرے نانا محمد سومر خان کو علاقے کے لوگ احتراماً ’خان صاحب‘ کہتے تھے کہ وہ سب کی خوشی یا غمی میں بہت پابندی سے شریک ہوتے تھے اور خاندان یا گاؤں میں ہونے والے جھگڑے فساد کے فیصلے بھی بہت انصاف سے کرتے تھے، چاہے کوئی فریق ان کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ وہ قیامِ پاکستان سے بھی بہت پہلے، پاپیادہ چل کر حج کر آئے تھے۔ ہم اپنے بچپن میں ان سے جب ملتے تھے تو اس سفر کی باتیں ضرور سنتے تھے، انہیں بھی وہ یادیں دہراتے ہوئے مزہ آتا تھا۔ وہ بتاتے تھے کہ حج کرکے واپس لوٹنے والے پیدل مسافروں کو ڈاکو کچھ نہیں کہتے تھے بلکہ وہ حاجیوں کے قافلے میں آکر احتراماً ان کے ہاتھ چومتے تھے۔ یہ عجیب دورَنگی تھی کہ جب عازمین حج ان کے علاقوں سے گزر کر کعبۃاللہ جارہے ہوتے تھے تو ان کو یہی لوگ لوٹ کر خالی ہاتھ روانہ کرتے تھے اور انہی حاجیوں کی واپسی پر وہی لٹیرے ان کے ہاتھ اور جُبوں کے دامن چومتے تھے۔

حج بیت اللہ ہر مسلمان کی اوّلین خواہشوں میں سے ایک تمنا ہوتی ہے۔ اکثر لوگ مالی استطاعت نہ رکھنے کے باعث زندگی کے اس بڑے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر پاتے، مگر وہ جن کا جذبہ صادق ہو اور جنہیں دیارِ حبیب سے بلاوا بھی آجائے، وہ استطاعت نہ ہوتے ہوئے بھی مکے مدینے کے مینار جا دیکھتے ہیں۔

گزشتہ زمانوں میں جب سفرِ حج کے ہزاروں میل طے کرنے کے لیے ہوائی جہاز، بحری بیڑے یا دوسرے ذرائع آمدورفت نہیں ہوتے تھے، تب دور دراز واقع ملکوں کے مسلمان حج کرنے کے لیے قافلوں کی صورت میں پیدل نکل کھڑے ہوتے تھے۔ اس سفر کے زادِ راہ کے طور پر کچا راشن، پانی کا مشکیزہ اور حیثیت کے مطابق کچھ رقم ساتھ رکھ لی جاتی تھی۔ تب عرب دنیا میں سیاہ سونے یعنی پیٹرول کی دولت دریافت نہیں ہوئی تھی، اس لیے حجاز یا عربستان تک راستے میں آنے والے سبھی ملکوں کے باسی نہایت غریب ہوتے تھے۔ ان کی معیشت کا انحصار تھوڑی بہت کھیتی باڑی، عود جیسی اشیا کی فروخت اور حج کے لیے گزرنے والے قافلوں پر ہوتا تھا۔ راستے میں پڑنے والے انہی ملکوں کے کچھ باشندے بھی عازمینِ حج کا سال بھر انتظار کیا کرتے تھے اور جب قافلے ان کے ویران علاقوں، ریگستانوں سے گزرتے تھے تو وہ ڈاکو انہیں لوٹ لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ عازمین حج کو سفری سہولت مہیا کرنے اورانہیں ڈاکوؤں کی لوٹ مار سے بچانے کے لیے گزشتہ صدی کی ابتدا میں عثمانی خلیفے نے دمشق سے مدینہ منورہ تک حجاز ریلوے کا عظیم الشان منصوبہ مکمل کرایا تھا۔ اس منصوبے کو روکنے کے لیے بھی وہی ڈاکو قبیلے کئی بار حملے کر کے پٹری اکھاڑ دیتے تھے اور کام کرنے والے مزدوروں کو ہلاک کر دیتے تھے۔ بالآخر ترک خلیفے کو ریلوے کے راستے اور اسٹیشنوں کو محفوظ رکھنے کے لیے چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کروا کر ان میں فوجی تعینات کرنے پڑے تھے۔

مگر یہ گئے دنوں کی باتیں ہیں۔ آج تو ایک ہی وقت میں سیکڑوں عازمین حج کے قافلے طیارے میں بیٹھتے ہیں اور دو ڈھائی گھنٹے بعد ہی سرزمینِ حجاز کی مقدس مٹی جاکر چومتے ہیں اور خانہ کعبہ کے دیدار سے آنکھوں کو طراوت بخشتے ہیں۔

لیکن اتنی سفری سہولیات ہونے کے باوجود بھی اگر کوئی مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے گھر سے پیدل نکل کھڑا ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟

ظاہر ہے کہ اسے اس کی عقیدت اور محبت کی انتہا کہیں گے۔ تو آج ایسے ہی چند ’انتہا پسندوں‘ کے سفرِ سعادت کا احوال ہم یہاں آپ کو سنانے لگے ہیں کہ جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں گے، تب حج کا موقع ہوگا، جسے ہم نے مہنگے نمائشی مویشیوں کی خریداری کا بہانہ اور محض عیدِ قرباں بنا کر رکھ دیا ہے۔

بات پہلے اپنے گھر سے شروع کرنی چاہیے۔ اس لیے حافظ آباد پنجاب کے اولوالعزم انسان کھرل زادہ کثرت رائے کے پیدل سفرِ حج سے شروع کرتے ہیں جو اس سفر سے پہلے ہی مسافر ِامن کے نام سے مشہور تھے۔ اسی کثرت رائے کا نام 6 ہزار 387 کلومیٹر پیدل چل کر حج کی سعادت کرنے کے طفیل گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کرنے کے لیے ادارے کی جانب سے کثرت رائے سے رابطہ بھی کیا گیا ہے مگر وہ اس کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے یہ معاملہ ابھی اٹکا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان چاہے تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز والوں کی ٹیم کے اخراجات اٹھا کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہے۔

کثرت رائے اپنے سفرِ سعادت کے متعلق بتاتے ہیں: ’

’انسان ہر وقت دو طرح کا سفر کررہا ہوتا ہے، ایک تو یہ باہر کا سفر ہے، جس میں وہ معمولاتِ زندگی میں مشغول ہوتا ہے۔ دوسرا سفر اُس کے اندر چل رہا ہوتا ہے۔ میرا حج کا سفر میرے اندر کا سفر تھا۔ اس نے مجھے کہاکہ تُو امن کے لیے اور دوسرے مقاصد کے لیے تو بہت سفر(واک) کرتا ہے، اب ذرا آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دربار میں ان کی امّت کی عرضی پیش کرنے کے لیے بھی ایک سفر کر لے۔ کعبے چل کے پروردگار عالم کے آگے دستِ سوال دراز کرکے، اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امّت کو امن آشتی کا ماحول بخش دے۔ جب یہ خیال اندر میں جم کر بیٹھ گیا تو اس پرعملدرآمد کے لیے اپنی حکومت سے منظوری لینے کی درخواست دے دی۔ راہ میں جتنے ملک آنا تھے، ان کی حکومتوں کو درخواستیں بھجوائیں کہ میں پاکستان سے مکہ مکرمہ حج کے لیے پیدل سفر شروع کرنا چاہتا ہوں، مجھے منظوری دی جائے اور راستے میں ضروری سہولتیں بھی مہیا کی جائیں۔ اب یہ ستم ظریفی دیکھیے کہ سبھی ملکوں سے منظوری آگئی اور انہوں نے خوش آمدید بھی کہا مگر پاکستان حکومت سے منظوری کا انتظار طویل ہوتا چلاگیا۔ بالآخر اوپر نیچے بھاگ دوڑ کر کے، مختلف بڑے لوگوں سے کہہ کہلوا کے یہ منظوری بھی حاصل کرلی۔ ان منظوریوں کے حصول میں قریباً 9 ماہ لگ گئے۔ اس کے بعد میں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجۃالوداع کا خطبہ لیا کیونکہ اس میں سارے عالم کے انسانوں کو امن سے رہنے کا درس دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے میں نے کراچی سے مکہ کے اس سفر کا نام ’واک فار گلوبل پِیس‘ رکھا۔ یہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت سفر تھا۔ دراصل یہ میرے رب اور میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے خصوصی بلاوا تھا کیونکہ اس سفر میں مختلف حکومتوں نے جو سہولتیں اور پروٹوکول مجھے دیا، وہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ میرے ساتھ 4 گاڑیاں چل رہی ہوتی تھیں۔ ایک میں میرے کوآرڈینیٹرز ہوتے تھے، ایک میں اس ملک کے سیکیورٹی والے ہوتے تھے، جس کی حدود سے میں گزر رہا ہوتا تھا، ایک اور گاڑی ایمبولینس ہوتی تھی، پاکستان کی حدوں تک مجھے ایدھی صاحب نے ایک ایمبولینس دی تھی، اس سفر کے لیے میں نے کسی فرد، ادارے یا حکومت سے کوئی مالی مدد نہیں لی۔ یہ حج کا سفر تھا، اس لیے میں نے اپنے اور کوآرڈینیٹرزکے تمام اخراجات خود اٹھائے۔ اس کے لیے میں نے اپنی جائیداد بیچی تھی۔ جب میں سعودیہ پہنچا تو وہاں کی حکومت اور وزارت نے انعام کے طور پر 13 لاکھ ریال دیے تو میں نے وہ بھی قبول نہیں کیے جو پاکستانی کرنسی میں 4 کروڑ روپے بنتے تھے۔ اس کے بدلے میں نے ان سے گزارش کی کہ جن پاکستانی مزدوروں کو آپ ڈی پورٹ کررہے ہیں، ان کو تھوڑی مہلت دے دیں تاکہ انہیں آسانی ہو۔ اس پر تمام غیر ملکی کارکنوں کو حکومت نے تین ماہ کی مہلت دے دی۔ اس کے علاوہ میری اپیل پر انہوں نے چھوٹے جرائم میں سزا پانے والے قریباً 60 ہزار قیدی بھی آزاد کر دیے۔ بھلا مجھے اس سے بڑھ کر کیا عزت چاہیے تھی؟‘

’جو 6 ہزار 387 کلومیٹر فاصلہ تھا، وہ کہاں سے کہاں تک تھا؟‘

یہ کراچی پریس کلب سے مکہ مکرمہ میں حرم پاک تک تھا۔ میں واپسی میں ہوائی جہاز سے آیا تھا۔ کراچی سے میں کوئٹہ پہنچاتھا۔ وہاں سے تافتان، زاہدان، اصفہان کراس کرتا مہران (ایران۔عراق سرحد) سے عراق میں داخل ہوا۔ بغداد، فلوجہ اور رمادی سے گزرا تو اس سے آگے 400 کلومیٹر صحرا تھا۔ اسے عبور کرکے عراق۔ اردن کی سرحد آئی۔ اردن میں الارزق شہر، المعقر، اومان، حسینیہ، سلطانیہ اور پھر مان سٹی کے بعد قریباً 175 کلومیٹر صحرائی علاقہ تھا، جسے کراس کر کے مدورہ بارڈر پہنچ کر وہاں سے سعودی عرب میں داخل ہوا تھا۔ وہاں سے آگے تبوک، قلیبیہ، خیبر، سلسلہ سے ہوکر مدینہ منورہ پہنچا۔ مدینے میں ایک دن ٹھہر کر میں مکہ روانہ ہوا جو 10 دن کی پیدل مسافت پر تھا، درمیان میں جدہ بھی آیا تھا۔

’یہ فرمائیں کہ آپ سفر کے ٹائم کو کس طرح تقسیم کرتے تھے؟ روزانہ کتنے گھنٹے چلنا یا کتنا فاصلہ طے کرتے تھے؟‘

’گھنٹوں کا حساب تو نہیں رکھتا تھا کیونکہ مجھے یہ پورا سفر 117 دنوں میں پورا کرنا تھا۔ البتہ ایک دن میں کتنا سفر طے کرنا ہے؟ اس پر سختی سے کاربند رہتا تھا۔ میں نے 7 جون کی چلچلاتی دھوپ میں کراچی سے سفر کی ابتدا کی کیونکہ وہ 28 رجب کا دن تھا، اسی دن امام عالی مقام نے اپنے سفرِ امن کی ابتدا کی تھی۔ میرا زیادہ تر سفر صحرائی علاقوں میں 50 درجہ کی گرمی میں گزرا۔ مجھے 6 ہزار 387 کلومیٹرکا فاصلہ 117 دن میں طے کرنا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا تھا کہ میں روزانہ 54 یا 55 کلومیٹر سفر کروں گا۔ مگر مجھے بلوچستان سے نکل کر ایران میں داخل ہوتے ہوتے ہی 49 دن لگ گئے تھے۔ ان دنوں امن و امان کی صورتحال ہی ایسی تھی۔ یوں ایران کی حدود میں مجھے روزانہ 75 کلومیٹر طے کرنا تھے۔ ایران میں زیارتیں وغیرہ کرکے جب میں عراق کی سرحد پر پہنچا تو میرا روزانہ کا ٹارگٹ 81 کلومیٹر ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے سونے اور آرام کرنے کا وقفہ کم کردیا تھا اور آدھی رات تک چلتا رہتا تھا۔‘

دن میں کیا صورتحال ہوتی تھی؟

’آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ 50 ڈگری میں صحرا کا سفر کیسا ہو سکتا ہے؟ بس، آنکھیں بند کرکے، درود پاک پڑھتا ہوا چلتا جاتا تھا۔ اندر کی اسکرین پر مدینے کی تصویر چلتی رہتی تھی تو گرمی، پیاس اور دوسری تکلیفوں کا اثر کم ہوجاتا تھا۔ دوسری جانب یہ حالت ہوتی تھی کہ پیروں میں بہترین جوگرز کے ہوتے ہوئے بھی چھالے پڑجاتے اور پھوٹتے جاتے تھے۔ پیروں کے ناخن کالے پڑ کر اکھڑ جاتے تھے۔ جب میقات کی حدود آئیں تو میں نے احرام باندھا اور جوتے اتار کر پٹی والی کھلی چپل پہن لی۔ احرام میں پیدل چلنا اور مشکل ہوگیا۔ جب حرم پاک 12 کلومیٹر کی دوری پر رہ گیا توچپل بھی اتاردی اور ننگے پائوں چلنا شروع کیا۔ اس سے حال اور خراب ہو گیا تھا۔ سڑک پر میرے پیچھے خون کی لکیر کھنچتی چلی آتی تھی۔ اس مختصر سفر میں پیروں کے تلووں میں کنکر پتھر گھس کر اندر ہی پھنسے رہ جاتے تھے، جنہیں بعد میں پلاس کی مدد سے کھینچ کر نکالا تھا۔ پیروں کے زخموں کو بار بار دھوکر ان میں نمک بھر دیتا تھا۔ جب زخم کچھ ٹھیک ہوتے تھے تو نمک اتار کر پھر دھونا پڑتا تھا۔‘

رات بسر کرنے کا کیا سلسلہ ہوتا تھا؟

روزانہ سفر کا ہدف پورا کرنے کے لیے رات کے 2 بجے تک چلنا ہوتا تھا۔ اس کے بعد گاڑیاں سائیڈ پر لگوا کر، ان کے قریب گدا بچھا کر سوجاتا تھا۔ دن میں میری حالت دیکھ کر ساتھی کہتے تھے کہ بھائی، تھوڑا آرام کرلیں مگر مجھے درد اور تکلیف کا جیسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔

سفر حج کا کوئی یادگار واقعہ جو شیئر کرنا چاہیں؟

ہوتا یہ تھا کہ دن میں جب آسان سفر ہوتا تھا تو میں صرف ایک سیکیورٹی والی گاڑی کے ساتھ سفر کرتا تھا، بقیہ گاڑیوں کو آگے بھجوا دیتا تھا۔ ایک بار شدید گرمی میں اردن کے صحرائی علاقے میں سڑک پر چلتا جا رہا تھا۔ میرے ساتھ ساتھ گاڑی میں چلنے والے گا رڈ نے کہا کہ میں گاڑی لے کر آپ کے آگے آگے چلتا ہوں اور عربی زبان کے صحرائی گیت چلاتا ہوں تاکہ آپ کا دل بھی بہلتا رہے۔ اس طرح سفر طے ہونے لگا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک گاڑی آئی، جس میں ایک نوجوان سوار تھا۔ اس نے میرے پاس آکر گاڑی آہستہ کی اور چیخ کر کہا:

رک جائو، تمہارے پیروں میں سانپ ہے۔

میں نے دیکھا تو واقعی ایک سانپ ساتھ چل رہا تھا۔ اس نوجوان نے پسٹل نکال کر اسے مارنا چاہا تو میں نے منع کردیا کہ مت مارو، اس نے مجھے نقصان نہیں دیا۔ اس نے گاڑی آہستہ آہستہ ساتھ چلانا شروع کی۔ سانپ بھی میرے ساتھ چل رہا تھا۔ اس لڑکے نے موبائل سے مووی بنانا شروع کی اور مجھ سے میرا احوال لینے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ گاڑی تیز کر کے چلا گیا۔ اس نے آگے امّان شہر جاکر وہاں کے بڑے ٹی وی چینل کو یہ فوٹیج دے دی۔ یہ فوٹیج چل گئی تو میرے امّان پہنچنے سے پہلے وہاں کے درجنوں لوگ استقبال کے لیے شہر سے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ ادھر سانپ تو اُکتا کر اپنی راہ چلا گیا تھا مگر وہ لوگ مجھ سے پوچھنے لگے کہ تمہارا سانپ کہاں ہے؟ اس کے بعد پورے سفر میں مجھ سے یہی سوال کیا جاتا رہا۔ اسی ملک اردن میں گارڈ کے ساتھ اکیلا چل رہا تھا کہ پانی ختم ہوگیا۔ گارڈ نے روڈ پر کھڑے ہو کر آتی جاتی گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی مگر کوئی نہ رکتا تھا۔ میری حالت بہت خراب ہوگئی تھی اور میں سائیڈ میں بیٹھ گیا تھا۔ گارڈ نے کہاکہ میں آگے آبادی سے جاکر پانی لے آتا ہوں، وہ گاڑی لے کر چلا گیا۔ میں پاکستانی پرچم رستے کے کنارے کھڑا کر کے خود اس سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ آنکھیں کمزوری سے بند تھیں۔ مجھے اتنا یقین تھا کہ میں حج کیے بغیر مروں گا نہیں مگر میری حالت بہت خراب تھی۔ اتنے میں امّان کی طرف سے ایک گاڑی آئی آکر رک گئی۔ اس میں ایک عرب شخص اور ساتھ میں ایک بوڑھی خاتون تھیں۔ انھوں نے مجھے آواز دے کر بلایا۔ میں سڑک کراس کر کے ان کے پاس پہنچا تو اس شخص نے مجھے پانی دیا۔ میں نے سیر ہوکر پیا تو اس نے کھانے کی چیزوں سے بھری ٹرے دی۔ میں نے منع کردیا کہ میرے پاس خوراک رکھی ہے۔ انہوں نے میرا حال احوال پوچھا۔

میں نے اپنے سفر کی تفصیل بتائی تو بہت خوش ہوئے اور جیب سے بہت سارے پیسے نکال کر مجھے دینے کی کوشش کی، میں نے منع کر دیا کہ میرے پاس اخراجات سے زیادہ رقم موجود ہے۔ انہوں نے اصرار کیا تو میں نے ان کے پاس موجود سب سے چھوٹا 20 دینار کا نوٹ لے لیا اور ایک کولڈ ڈرنک کا کین اٹھا لیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا نام ایمن شریف ہے اور ان کے خاندان کا تعلق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہے۔ اس لیے نام کے ساتھ ’شریف‘ لگاتے ہیں۔ ان کا بہت بڑا کاروبار ہے جو کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے، جس کی دیکھ بھال کے لیے وہ ہمیشہ اپنی والدہ کے ساتھ ہی سفر کرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جو پانی مجھے پلایا ہے، وہ آبِ زم زم تھا۔ میں فرطِ جذبات سے روپڑا کہ حضور عالی مقام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس صحرا میں میرے لیے کیسا اعلیٰ انتظام کیا۔

اللہ پاک سب کے نصیب ہمارے بھائی کثرت رائے جیسے کرے ،آمین۔

ان کی طرح اور بھی کئی دیوانے ہیں، جنہوں نے تمام تر سہولیات ہونے کے باوجود پا پیادہ سفرِ حج کیا ہے۔ ان میں ترکیہ، بوسنیا، چین، فرانس، بھارت اور دیگر ملکوں کے شہری شامل ہیں۔

ترک شہری اقین ینیجیلی نے فریضہ حج کی ادائی کی خاطر ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے اپنے پیادہ سفر کا آغاز کیا اور 3 ہزار 268 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اللہ کے گھر میں حاضری دی۔

بوسنیا کے ایک 47 سالہ مسلمان شخص صناد حاذق نے 2012 میں حج کرنے کے لیے اپنے ملک سے مکّہ مکرمہ تک 5 ہزار 650 کلو میٹر پیدل سفر کیا۔ اس سفر میں انہیں جنگ زدہ ملک شام سے بھی گزرنا پڑا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اللہ نے انہیں حفظ و امان میں رکھا، البتہ انہیں ویزا لینے کے لیے شام کی سرحد پر کئی گھنٹے رکنا پڑا۔

الجزائر نژاد ہسپانوی اسحاق محمد جزائری کا ذکرخیر، جو فرانس کے دارالحکومت پیرس سے 2016 میں پیدل چلتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے۔ اسحاق محمد جزائری نے اپنے 5 ماہ کے سفر میں 16 ممالک سے گزرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ اسحاق محمد جزائری کا کہنا تھا کہ انہیں مختلف ملکوں کے پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے کے دوران بہت تکلیف آئی۔ ایک بار برف باری کے طوفان میں گھر گئے تو بڑی مشکل سے اپنا چھوٹا سا خیمہ لگا کر اس میں پناہ لے لی۔ اسحاق محمد نے اس سفر کے لیے 5 ہزار یورو جمع کیے تھے۔ اس لیے انہوں نے راستے میں لوگوں کے اصرار کے باوجود ان کی مالی امداد قبول نہیں کی۔

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد خمیم سیتی وان سال بھر پیدل چل کر 9 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے مکہ پہنچے۔ ٹی شرٹ اور جینز پہنے ہوئے 28 سالہ محمد خمیم نے سفرِ حج اپنے آبائی علاقے وسطی جاوا سے شروع کیا تھا۔اپنے سفر کے دوران وہ ملائیشیا، میانمار، بھارت، پاکستان،عمان، متحدہ عرب امارات سے گزرے اور بالآخر سعودیہ پہنچے۔ وہ عموماً رات کو سفر کرتے تھے اور دن میں روزہ رکھ کر کہیں آرام کرتے تھے۔ ان کا یہ معمول سفر کے پورے سال جاری رہا۔

یورپ کے ملک آسٹریا کے شہر گراز کے طاہر عبد بھی ایسے ہی دیوانے ہیں، جنہوں نے حج کے لیے 8 ہزار کلومیٹر کا دشوار گزار فاصلہ پیدل طے کیا۔ طاہر عبد کے والد عراقی اور والدہ جرمن تھیں۔ انہوں نے اپنا سفر گراز شہر سے شروع کیا۔ زغرب (کروشیا) سے گزر کر مونٹی نیگرو کے شہروں نک سک اور پوگوریکا، بوسنیا کے سرائیوو، مقدونیہ کے اسکوجے، البانیہ کے شکودر، بلغاریہ کے صوفیہ، ترکیہ کے استنبول، سیمسن، ترابزون، ایران کے تہران، اصفہان اور متحدہ عرب امارات سے ہوکر سعودیہ میں داخل ہوئے۔ اس دوران طاہر عبد چند دن دبئی میں ٹھہرے تھے۔ طاہر تین بچوں کے باپ ہیں، جن کی تصویریں وہ پورے سفر میں سینے سے لگائے رہے اور روزانہ دیکھتے رہے تھے۔ انہوں نے 8 ہزار 150 کلومیٹر کا سفر 270 دنوں میں طے کیا۔ اس دوران 12 ملکوں سے گزرے۔

متحدہ عرب امارات کے نوجوان جلال بن ثانیہ نے معذور بچوں کی امداد کے لیے فنڈز جمع کرنے کی نیّت سے گزشتہ سال پیدل سفرِ حج کیا۔ انہوں نے ابوظہبی میں اپنے آبائی شہر روویس سے یہ سفر شروع کیا اور 50 دن میں 2 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے مکہ پہنچے۔

حج کے سفرِ سعادت کے لیے دنیا بھر سے ہر سال کئی مسلمان پیدل نکلتے ہیں مگر ان سب کا احوال ہمیں نیٹ یا میڈیا سے مل نہیں پاتا۔ گزشتہ برس بھارتی شہر بنگلور سے 60 سال کے ایک الیکٹریشن محمد رحمت اللہ بھی روانہ ہوئے تھے اور بھارت کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ان کا شاندار استقبال ہوا تھا۔ مگر وہ کب اور کیسے مکّہ پہنچے؟ پہنچے بھی یا نہیں؟ اس کا احوال ان کے فیس بک پر یا میڈیا میں نہیں ملتا۔

بہرحال جب تک دنیا ہے، یہ سلسلہ بھی قائم رہے گا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی کوئی سعادت عطا فرمائے، آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ذوالحج کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں شروع

2 اسلامی ملکوں میں ذوالحج کا چاند نظر آنے کی تصدیق، عید الاضحیٰ کی تاریخ کا اعلان

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نئے صوبائی وزرا سے حلف لے لیا

رانا مشہود کی یونیسکو ڈائریکٹر سے ملاقات، نوجوانوں کو بااختیار بنانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال

ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز، 10 ہزار سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟