امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کیوبا نے 3 سو سے زائد فوجی ڈرون حاصل کر لیے ہیں اور حالیہ دنوں میں ان کے ممکنہ استعمال پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں گوانتانامو بے میں قائم امریکی فوجی اڈہ، امریکی بحری جہاز اور حتیٰ کہ ریاست فلوریڈا بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا
امریکی ویب سائٹ نے اتوار کو خفیہ انٹیلیجنس معلومات کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکا ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے ماحول بنا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو خاص طور پر جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور ہوانا میں ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی پر تشویش ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کے قریب ایسی ٹیکنالوجی کی موجودگی اور دہشتگرد گروہوں، منشیات فروش نیٹ ورکس، ایرانی اور روسی عناصر تک اس کی رسائی باعثِ تشویش ہے۔
مزید پڑھیں:عسکری، سیاسی طاقت کی دوڑ، چین اور امریکا میں سے کون آگے؟
امریکی حکام کے مطابق کیوبا 2023 سے روس اور ایران سے حملہ آور ڈرون حاصل کر رہا ہے اور مزید ڈرون خریدنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ اس معاملے پر کیوبا کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔














