بھارت اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات میں اب سب سے بڑا امتحان دونوں ملکوں کے درمیان بہنے والے 2 اہم دریاؤں، تیستا اور گنگا کے پانی کی تقسیم کا بن گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد جہاں سفارتی تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے، وہاں پانی کا معاملہ اب دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑا تزویراتی چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیستا ماسٹر پلان پر پیشرفت، چینی سفیر کا بنگلہ دیشی مشیر کے ہمراہ دورہ
دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ سال 2011 سے مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی شدید مخالفت کے باعث التوا کا شکار چلا آرہا تھا۔ تاہم مغربی بنگال میں بی جے پی کی حالیہ انتخابی کامیابی کے بعد اب نئی دہلی کے لیے داخلی سیاسی رکاوٹیں تو ختم ہوگئی ہیں.
دوسری جانب بنگلہ دیش نے سالہا سال کے اس تعطل سے مایوس ہوکر تیستا ندی کے جامع انتظامی منصوبے کے لیے باقاعدہ طور پر چین سے رابطہ کرلیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی اس منصوبے میں مالی اور انجینئرنگ کی سطح پر شمولیت نے اب اس معاملے کو محض پانی کا تنازع نہیں رہنے دیا، بلکہ یہ بھارت کے لیے ایک حساس سیکیورٹی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: دریائے تیستا بچاؤ مہم، اپوزیشن کا مشعل مارچ
یہ چینی منصوبہ بھارت کے جغرافیائی طور پر انتہائی اہم اور نازک ترین علاقے سلی گوڑی کوریڈور یعنی ’چکنز نیک‘ کے بالکل قریب واقع ہے، جس نے نئی دہلی کی تشویش بڑھا دی ہے۔
دوسری اہم ترین پیشرفت دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے حوالے سے ہے، جو سال 1996 میں 30 سال کے لیے سائن کیا گیا تھا اور رواں سال یعنی 2026 میں اس کی مدت ختم ہونے پر اس کی تجدید لازمی ہے۔
بنگلہ دیش اس وقت گنگا ندی، جسے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کے بعد پدما ندی کہا جاتا ہے، پر فراکا بیراج سے آگے ڈاؤن اسٹریم میں ایک بڑا ’پدما بیراج‘ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سطح سمندر میں اضافہ، کیا پاکستان بھی خطرے سے دوچار ہے؟
بنگلہ دیش اس بیراج کی تعمیر کو بنیاد بنا کر بھارت سے خشک موسم میں پانی کے محفوظ اور طے شدہ حصے کے حصول کے لیے سخت ترین مذاکرات کرے گا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی مشترکہ دریاؤں سے جائز حصے کے حصول کو خارجہ پالیسی کے مرکز میں رکھا تھا، اس لیے اس ہفتے کولکتہ میں ہونے والے جوائنٹ ریورز کمیشن کے 90ویں اجلاس میں بنگلہ دیشی وفد کی طرف سے سخت موقف اپنائے جانے کا قوی امکان ہے۔














