صدر ٹرمپ اکسانے کے باوجود پاکستان کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں، سابق سفارتکار اعزاز چوہدری

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق سیکریٹری خارجہ اور سفارتکار اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پاک انڈیا جنگ بندی کا کریڈٹ دینے کے بعد صدر ٹرمپ پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں سننا چاہتے۔

’وی نیوز ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی کا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو دیا جبکہ بھارت نے اس سے انکار کیا، جس کے بعد امریکی صدر ہر جگہ بھارت کے جنگی نقصان کا ذکر کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان، اس کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکرگزار ہوں، دونوں زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے کہاکہ اسرائیل سمیت مختلف لابیوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف اکسایا جاتا ہے لیکن وہ پاکستان کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے انہیں وہ احترام دیا جس کے حقدار تھے۔

صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہاکہ بعض حلقوں نے اس دورے کو غلط توقعات کے ساتھ دیکھا، تاہم یہ ایک دوطرفہ دورہ تھا جس میں بنیادی طور پر مختلف عالمی امور پر بات چیت ہوئی، اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ پاکستان شیڈول میں نہیں تھا۔

انہوں نے کہاکہ اس دورے سے یہ تاثر نہیں لینا چاہیے تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع فوری طور پر حل ہو جائے گا، کیونکہ اس وقت بھی اصل فوکس باہمی تعلقات اور عالمی مسائل تھے جن میں تائیوان اور یوکرین جیسے موضوعات بھی شامل تھے۔

اعزاز چوہدری کے مطابق چین نے اس موقع پر اپنے مؤقف کو واضح کیاکہ دنیا اب ’ملٹی پولر‘ ہو چکی ہے اور کسی ایک طاقت کی اجارہ داری قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق یہ پیغام خطے اور خاص طور پر جنوبی ایشیا کے لیے بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اس وقت بھی موجود ہے اور اگرچہ فوری جنگ کی صورتحال نہیں، لیکن کشیدگی برقرار ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

سابق سفارتکار نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی وہی ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم جیسے معاملات شامل ہیں۔

اعزاز چوہدری نے کہاکہ فریقین کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک بھی موجود ہے، خصوصاً سیکیورٹی گارنٹیوں اور مدت کی حد بندی جیسے نکات پر اختلافات ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ آبنائے ہرمز اور سمندری حدود سے متعلق اختلافات بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں، اور کسی بھی کشیدگی کی صورت میں خلیجی خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اعزاز چوہدری نے زور دیا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دینا چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہاکہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان کا عسکری اور سفارتی قد بڑھا ہے، جس کا اثر افغانستان پر بھی پڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے ذریعے بلیک میل نہیں ہوگا اور افغان طالبان کو ٹی ٹی پی سمیت شدت پسند گروہوں کی حمایت روکنا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے سرحدی سیکیورٹی سخت کی، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کیے، جس کے باعث افغانستان کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑی۔

ان کے مطابق پاکستان اب بھی بات چیت اور تجارت کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم یہ سب پاکستان کے مفادات کے مطابق ہوگا۔

بھارت سے متعلق گفتگو میں اعزاز چوہدری نے کہاکہ بھارتی حکومت کی ہندوتوا پالیسی داخلی سیاست میں تو کامیاب رہی ہے، لیکن اس سے بھارت کا عالمی تشخص متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کی بعض شخصیات کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ضرور سامنے آ رہی ہیں، لیکن دوسری جانب بھارتی فوجی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اس تاثر کو کمزور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک نریندر مودی حکومت برسراقتدار ہے، پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی زیادہ امید نہیں۔

اعزاز چوہدری نے کہاکہ ماضی میں پاکستان نے خیرسگالی کے کئی اقدامات کیے، جن میں کرتارپور راہداری کا قیام اور بھارتی پائلٹ کی رہائی شامل ہے، لیکن بھارت نے ان اقدامات کا مثبت جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جامع معاہدہ کروانے کے لیے اب کیا کوششیں کررہا ہے؟

سابق سفارتکار نے کہاکہ امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے حق میں مسلسل بیانات کی ایک بڑی وجہ خطے میں پاکستان کے کردار، انسداد دہشتگردی میں تعاون اور حالیہ عرصے میں اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم