ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پرامید اور مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں ڈیمنشیا یعنی یادداشت کمزور ہونے کی بیماری کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔
زندگی کا روشن پہلو: امید پسندی اور ڈیمنشیا کا خطرہ نامی اس تحقیق میں 2006 سے 2020 تک تقریباً 9 ہزار معمر افراد کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے ہر 4 سال بعد ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا معائنہ کیا۔ نتائج کے مطابق زیادہ پرامید افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 15 فیصد تک کم پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وٹامن بی ٹو کینسر کے خلیات کو زندہ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، نئی تحقیق
ماہرین کے مطابق خوش بینی صرف مثبت سوچ کا نام نہیں بلکہ یہ احساس بھی ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی پر کسی حد تک کنٹرول رکھتا ہے۔
اس کے برعکس مایوسی، تنہائی اور مسلسل منفی خیالات ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور یادداشت کی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔
ہانگ کانگ کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ایڈرین وونگ کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر میں صحت، مالی مسائل یا اپنے پیاروں سے محرومی انسان کو بے اختیار محسوس کراتی ہے۔
مزید پڑھیں: موٹاپا کم کرنے والے انجیکشن چھوڑنے کے بعد وزن قابو میں رکھنے کے لیے نئی گولی پر امید افزا تحقیق
’۔۔۔ جس سے مایوسی بڑھتی ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ انسان ان چیزوں پر توجہ دے جنہیں وہ بہتر بنا سکتا ہے۔‘
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ پرامید افراد ذہنی دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، اچھی غذا اور بہتر نیند لیتے ہیں۔
اس طبع کے افراد سماجی تعلقات مضبوط رکھتے ہیں، جو دماغی صحت کے لیے مفید ہیں۔
مزید پڑھیں: مکھی کا دماغ خودکار گاڑیوں میں استعمال ہوسکتا ہے، برطانوی تحقیق نے نیا راستہ دکھا دیا
ماہرین کے مطابق خوش بینی پیدائشی صلاحیت نہیں بلکہ اسے اپنایا جا سکتا ہے، شکرگزاری کی عادت، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور لوگوں سے میل جول مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
’۔۔۔اور یہی مثبت سوچ بڑھاپے میں دماغی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔‘













