امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق مثبت بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے چینی تیل بردار جہازوں کی روانگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو بھی اسی پیش رفت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اب بھی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو سکتی ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے تہران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان بیانات کے بعد بدھ کے روز 2 چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکل گئے، جسے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اس وقت ’اچھی پوزیشن‘ میں ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کے مختلف دھڑوں کے باعث مذاکرات میں مشکلات ضرور ہیں، تاہم واشنگٹن اپنی ’سرخ لکیریں‘ واضح کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران جنگ نہیں، امریکی سینیٹ میں اہم پیشرفت
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف نئی کارروائی کا فیصلہ کرنے کے قریب تھے، مگر تہران کی جانب سے جنگ بندی کی نئی تجویز سامنے آنے کے بعد انہوں نے کارروائی مؤخر کر دی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت اب معاہدے کی خواہاں ہے، تاہم اگر کوئی اتفاق نہ ہوا تو امریکا آنے والے دنوں میں دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا تقریباً 3 ماہ سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران ٹرمپ کئی مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ تہران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، جبکہ دوسری جانب وہ ایران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کیا۔ یہی راستہ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے باعث خلیجی پانیوں میں سینکڑوں آئل ٹینکر پھنس گئے جبکہ خطے میں توانائی اور شپنگ تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
امریکی صدر کو اندرونِ ملک بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں جبکہ نومبر میں ہونے والے کانگریس انتخابات سے قبل ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں اداروں کے مطابق بدھ کو 2 چینی سپر ٹینکر، جو عراقی خام تیل کے تقریباً 40 لاکھ بیرل لے کر جا رہے تھے، آبنائے ہرمز عبور کر گئے۔ اس پیش رفت اور وائٹ ہاؤس کے نرم بیانات کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 110 ڈالر 16 سینٹ فی بیرل تک آگئی، تاہم بعد میں قیمتوں میں جزوی بحالی دیکھی گئی۔
فوجی اور معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران واقعی کسی مشترکہ معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ امریکی مؤقف میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی نئی امن تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی، ایران کے قریب علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا اور امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ شامل ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق تہران نے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق ایران کی یہ شرائط بڑی حد تک وہی ہیں جنہیں صدر ٹرمپ گزشتہ ہفتے مسترد کر چکے تھے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکا نے حملہ مؤخر اس لیے کیا کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایران بھرپور فوجی جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اپریل کے آغاز میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست لڑائی میں کمی آئی ہے۔ اس جنگ کے دوران ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث لبنان میں بھی وسیع پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی دیکھنے میں آئی۔ دوسری جانب ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اسرائیل اور خلیجی خطے میں درجنوں افراد مارے گئے۔
صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا۔ تاہم اب تک ایران نہ تو اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے محروم ہوا ہے اور نہ ہی اس کی میزائل اور پراکسی نیٹ ورکس کی صلاحیت مکمل طور پر ختم کی جا سکی ہے۔














