اسمارٹ کارڈ، ہیلتھ مانیٹرنگ ایپس اور کلینر روبوٹس کیسے حج 2026 کو بہتر بنا رہے ہیں؟

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حج ہمیشہ سے دنیا کے سب سے بڑے اور پیچیدہ انسانی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے، جہاں چند دنوں میں لاکھوں افراد مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرتے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے حج 2026 میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ سسٹمز کو حج آپریشن کا بنیادی حصہ بنا دیا ہے۔ اس سال اسمارٹ کارڈز، ہیلتھ مانیٹرنگ ایپس، ڈیجیٹل نگرانی، کلینر روبوٹس اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ نظام نہ صرف انتظامی سہولت فراہم کر رہے ہیں بلکہ عازمین کے مجموعی حج تجربے کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری حج اسکیم: پاکستانی عازمین کو کھانے میں کیا کچھ دیا جارہا ہے؟

رواں سال نسک اسمارٹ کارڈ ہر عازم کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل شناختی نظام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ کارڈ صرف شناختی دستاویز نہیں بلکہ اس میں عازم کی رہائش، گروپ معلومات، نقل وحمل، اجازت نامے اور بعض طبی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مسجد الحرام اور مشاعر مقدسہ کے مختلف داخلی مقامات پر اسمارٹ اسکینرز کے ذریعے ان کارڈز کی جانچ کی جاتی ہے، جس سے غیر مجاز داخلے کی روک تھام اور ہجوم کو منظم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

مسجد الحرام میں اس سال مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہجوم مانیٹرنگ سسٹمز مزید فعال کیے گئے ہیں۔ ہزاروں کیمروں اور سینسرز کے ذریعے طواف، سعی اور داخلی راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مرکزی کنٹرول روم حقیقی وقت میں یہ دیکھتا ہے کہ کس مقام پر رش بڑھ رہا ہے، کن راستوں پر دباؤ زیادہ ہے اور کہاں فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ اگر مطاف یا بعض دروازوں پر غیر معمولی دباؤ پیدا ہو تو فوری طور پر متبادل راستے فعال کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: حج انتظامات کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام ’نسک مسار‘ متعارف

روضہ شریف اور مسجد نبویؐ میں بھی اسمارٹ نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ زائرین کے اوقات، داخلی اجازت اور ازدحام کی تقسیم کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ بڑی تعداد میں آنے والے زائرین کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔ مدینہ منورہ میں متعدد رہنمائی اسکرینز، ڈیجیٹل بورڈز اور اسمارٹ معلوماتی نظام مختلف زبانوں میں زائرین کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

منیٰ میں اس سال اسمارٹ کیمپ مینجمنٹ پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ خیموں کے علاقوں میں سینسرز کے ذریعے درجہ حرارت، بجلی کے نظام اور بعض مقامات پر انسانی دباؤ کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر اسمارٹ اسکرینز کے ذریعے عازمین کو راستوں، اوقات اور حفاظتی ہدایات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ منیٰ میں نقل وحرکت کے لیے اسمارٹ روٹ اینالیسز سسٹمز بھی استعمال ہو رہے ہیں، جن کے ذریعے پیدل راستوں اور بسوں کی روانی کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عرفات میں شدید گرمی کے خطرات کے پیش نظر ہیلتھ مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ سعودی وزارت صحت نے متعدد ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے ہیں جو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور جسمانی تھکن جیسے خطرات کی پیشگی نشاندہی کرتے ہیں۔ بعض طبی مراکز مصنوعی ذہانت کے ذریعے مریضوں کی آمد، طبی دباؤ اور ہنگامی صورتحال کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔

عرفات کے میدان میں اس سال جدید کولنگ سسٹمز، پانی کے اسمارٹ اسٹیشنز اور ڈیجیٹل رہنمائی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ متعدد مقامات پر عازمین کو موبائل ایپس کے ذریعے ہنگامی طبی سہولیات، قریبی کلینکس اور رہنمائی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بزرگ اور بیمار عازمین کے لیے خصوصی معاون خدمات اور اسمارٹ ٹریکنگ سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حج بیگ میں کیا کیا چیزیں ہونی چاہییں؟

مزدلفہ میں ہجوم کی رات بھر موجودگی کے باعث روشنی، نگرانی اور صفائی کے نظام کو مزید جدید بنایا گیا ہے۔ اسمارٹ لائٹنگ سسٹمز اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے عازمین کی نقل وحرکت کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مختلف مقامات پر نصب سینسرز انسانی بہاؤ کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ صبح کے وقت منیٰ واپسی کے دوران غیر ضروری دباؤ کم کیا جا سکے۔

حرمین شریفین میں صفائی کے شعبے میں کلینر روبوٹس خصوصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ مسجد الحرام میں جدید روبوٹس فرش صاف کرنے، جراثیم کش اسپرے اور بعض مقامات پر فضائی معیار کی نگرانی جیسے کام انجام دے رہے ہیں۔ یہ روبوٹس مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور لوگوں سے ٹکراؤ سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لاکھوں افراد کی مسلسل آمد و رفت کے باوجود صفائی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے میں ان روبوٹس کا اہم کردار سامنے آ رہا ہے۔

رواں سال ڈیجیٹل رہنمائی ایپس بھی حج آپریشن کا بنیادی حصہ بن گئی ہیں۔ نسک اور توکلنا جیسی ایپس کے ذریعے عازمین کو مختلف زبانوں میں رہنمائی، عبادات کی معلومات، ٹرانسپورٹ شیڈول، ہنگامی الرٹس اور راستوں کی تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اردو زبان میں ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی نے پاکستانی اور جنوبی ایشیائی عازمین کے لیے حج کو مزید آسان بنایا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ منی، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان بسوں اور ٹرینوں کی آمد ورفت کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ الگورتھمز یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ کس راستے پر دباؤ زیادہ ہے اور کن مقامات پر روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اس سے لاکھوں عازمین کو کم وقت میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

سیکیورٹی کے میدان میں چہرہ شناسی، ویڈیو اینالیٹکس اور اسمارٹ سرویلنس سسٹمز بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ان نظاموں کے ذریعے لاپتا افراد کی تلاش، مشتبہ حرکات کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن بنایا جا رہا ہے۔ حج جیسے بڑے اجتماع میں جہاں ہر لمحہ لاکھوں افراد حرکت میں ہوتے ہیں، وہاں مصنوعی ذہانت نے نگرانی کے روایتی طریقوں کو کہیں زیادہ موثر بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق حج 2026 صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ بڑے انسانی اجتماعات کے انتظام میں ایک عالمی ماڈل بنتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب جدید ٹیکنالوجی کو روحانی خدمات کے ساتھ جوڑتے ہوے یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نظام اور انسانی خدمت ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال کا حج دنیا کے سب سے جدید اور اسمارٹ مذہبی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp