گوگل کی 25 برس بعد سرچ میں بڑی تبدیلی، کیا ویب ٹریفک کا دور ختم ہونے والا ہے؟

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل نے 25 سال میں پہلی بار اپنی سرچ سروس میں سب سے بڑی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔

’الفابیٹ‘ کے ذیلی ادارے گوگل نے سرچ کو صرف سوالات کے جواب دینے والے پلیٹ فارم کے بجائے ایک ذہین اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے معاون میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، جو پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دے سکے گا۔

مزید پڑھیں: گوگل کا نیا AI سرچ سسٹم، کیا روایتی سرچ انجن ختم ہونے جا رہے ہیں؟

سرچ میں مصنوعی ذہانت کے فیچرز کا اضافہ

اس بڑے اپ ڈیٹ کے تحت گوگل پہلی بار سرچ میں جیمنائی 3.5 فلیش کو ضم کرے گا، فعال ’سرچ ایجنٹس‘ متعارف کرائے گا اور سرچ انٹرفیس کو نئے انداز میں پیش کرےگا۔

نئے ’ذہین سرچ باکس‘ کے ذریعے صارفین زیادہ قدرتی اور گفتگو کے انداز میں سوالات پوچھ سکیں گے، جبکہ یہ نظام تصاویر، متن، ویڈیوز، فائلز اور کروم ٹیبز سمیت مختلف فارمیٹس میں دی گئی معلومات کو سمجھ سکے گا۔

معلوماتی ایجنٹس کیا کریں گے؟

اس اپ ڈیٹ میں ایسے معلوماتی ایجنٹس بھی شامل ہیں جو خریداری، مالیات اور خبروں سمیت مختلف شعبوں میں ویب ڈیٹا کا مسلسل تجزیہ کریں گے۔ یہ ایجنٹس صارف کی دی گئی ہدایات کی بنیاد پر خلاصہ شدہ اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔

گوگل کے مطابق یہ فیچر رواں موسم گرما میں پرو اور الٹرا سبسکرائبرز کے لیے متعارف کرایا جائےگا۔

گوگل سرچ کی سربراہ لز ریڈ نے ایک پریس بریفنگ میں کہاکہ صارف مخصوص پیرامیٹرز کے ساتھ مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے الرٹ ترتیب دے سکیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ نگرانی کا مکمل منصوبہ تیار کرےگا، جس میں مطلوبہ ٹولز اور ڈیٹا تک رسائی بھی شامل ہوگی۔

ذاتی ڈیٹا سے مزید اسمارٹ سرچ

نئی تبدیلیوں کے بعد گوگل کی ذاتی نوعیت کی مصنوعی ذہانت سروس کو 98 زبانوں اور قریباً 200 ممالک میں مفت متعارف کرایا جا رہا ہے۔ صارفین اپنی جی میل، گوگل کیلنڈر اور تصاویر کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ منسلک کر سکیں گے تاکہ نظام کو مزید سیاق و سباق حاصل ہو سکے۔

کمپنی کے مطابق صارفین کو اپنی پرائیویسی اور ڈیٹا کے استعمال پر مکمل اختیار حاصل ہوگا۔

سرچ کا نیا انداز

گوگل اینٹی گریویٹی اور جیمنائی 3.5 فلیش کی مدد سے سرچ اب انٹرایکٹو گرافکس، تصویری خاکوں اور فرضی ماڈل پر مبنی جوابات بھی تیار کر سکے گی۔

ماہرین کے مطابق روایتی سرچ سے مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ کی جانب یہ بڑی تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت سرچ انجنز میں تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہے۔ اب صارفین ویب سائٹس پر خود کلک کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے فراہم کردہ معلوماتی ایجنٹس پر زیادہ انحصار کر سکتے ہیں۔

ویب ٹریفک کے خاتمے کا خدشہ

اگرچہ ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اس سہولت کو پسند کر رہے ہیں، تاہم پبلشرز اور میڈیا ادارے ویب ٹریفک میں ممکنہ کمی پر تشویش کا شکار ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے میڈیا ایگزیکٹوز کو خدشہ ہے کہ سرچ انجنز سے ویب سائٹس پر آنے والا ٹریفک اگلے 3 برسوں میں 43 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی معاونت کی وجہ سے نیوز ویب سائٹس ایک سال کے دوران اپنی سرچ ٹریفک کا ایک تہائی حصہ کھو سکتی ہیں۔

ادارے کے سینیئر ریسرچ ایسوسی ایٹ نک نیومین نے کہاکہ یہ واضح نہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا، تاہم پبلشرز کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس معلومات تک رسائی کا ایسا نیا اور آسان ذریعہ بن رہے ہیں جو نیوز برانڈز اور صحافیوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل

اس اپ ڈیٹ کے بعد انٹرنیٹ صارفین نے بھی مختلف خدشات کا اظہار کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ جو آواز آپ سن رہے ہیں وہ بغیر پے وال والی صحافتی ویب سائٹس کی آمدنی ختم ہونے کی ہے۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے لیس ’گوگل بک‘ متعارف، قیمت کیا ہے؟

ایک اور صارف نے کہاکہ آپ کی پسندیدہ ویب سائٹس، جو پہلے ہی سرچ ٹریفک میں کمی کا سامنا کر رہی تھیں، اب اس تبدیلی کے بعد شدید متاثر ہوں گی۔

ایک تیسرے صارف نے تبصرہ کیاکہ ویب سائٹ ٹریفک کا خاتمہ قریب ہے، شاید اب نیوز لیٹرز میں سرمایہ کاری کا وقت آ گیا ہے، جبکہ دیگر صارفین نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اقوامِ متحدہ میں انٹرنیشنل فٹبال ڈے 2026 کی تقریب، پاکستانی فٹبال مرکزِ توجہ بن گئی

اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت سنا دی گئی

خیبرپختونخوا تیل و گیس کے شعبے میں بڑا حصہ لینے جا رہا ہے، صوبے کے حقوق کے لیے مل کر لڑیں گے، مزمل اسلم

اسرائیل کا غزہ جانے والے صمود فلوٹیلا پر حملہ، پاکستانیوں سمیت 430 رضاکار گرفتار

ٹوٹتے رشتے، بکھرتے گھرانے: اسلام آباد میں طلاق اور خلع کے کیسز میں خوفناک اضافہ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا