گوگل نے اپنی سرچ سروس اور دیگر مصنوعات میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نئی خصوصیات متعارف کراتے ہوئے گزشتہ کئی برسوں کی سب سے بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد روایتی سرچ کے انداز کو تبدیل کر کے اسے زیادہ ذہین، خودکار اور گفتگو پر مبنی بنانا ہے۔
گوگل کے مطابق نئی اپڈیٹس کے تحت سرچ بار کو اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ وہ صارف کے سوالات کے جواب میں نہ صرف ویب سے معلومات حاصل کرے بلکہ خود مختار انداز میں تحقیق بھی کر سکے۔ یہ تبدیلی کمپنی کے جدید AI ماڈل ‘Gemini 3.5 Flash’ پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کا انقلابی قدم، معذور افراد کے لیے اے آئی سے لیس حیرت انگیز فیچرز متعارف کروا دیا
نئے نظام کے تحت سرچ بار اب طویل اور گفتگو جیسے سوالات کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گا، جس سے صارفین قدرتی زبان میں سوالات پوچھ سکیں گے بالکل اسی طرح جیسے وہ کسی AI اسسٹنٹ سے بات کرتے ہیں۔
خودکار ’ایجنٹس‘ کی سہولت
گوگل نے ایک نئی سہولت بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت صارفین سرچ انجن میں خودکار ’ایجنٹس‘ تشکیل دے سکیں گے۔ یہ ایجنٹس مخصوص موضوعات پر مسلسل نگرانی اور تحقیق کر سکیں گے جیسے کہ کسی صارف کو پسندیدہ کھلاڑیوں کی جانب سے نئے اسنیکر معاہدوں یا پروڈکٹ لانچز کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ ایجنٹس مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے باقاعدہ اپڈیٹس فراہم کریں گے اور بعض صورتوں میں کسٹم ویژولز اور چھوٹی ایپلیکیشنز بھی تیار کر سکیں گے مثلاً فٹنس ٹریکر جو لوکیشن اور موسم کی معلومات سے منسلک ہو۔
‘Spark’ موڈ کی نئی خصوصیت
گوگل نے اپنی AI اسسٹنٹ ‘Gemini’ میں ‘Spark’ کے نام سے ایک نیا موڈ بھی شامل کیا ہے جو پس منظر میں چلتے ہوئے طویل المدتی اور خودکار کام انجام دے سکے گا۔ یہ موڈ ای میلز، مالیاتی ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل معلومات کا تجزیہ کر کے خلاصے اور ٹو ڈو لسٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ فیچر Google Docs، Gmail اور Slides جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط ہوگا جبکہ مستقبل میں مزید تھرڈ پارٹی ایپس کی سپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ Mac کمپیوٹرز اور موبائل ڈیوائسز پر بھی اس کی فعالیت کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ صارف اپنے ایجنٹس کو دور سے مانیٹر کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی کے لمحات تازہ کریں: اے آئی کے ذریعے اپنی کم عمری والی تصاویر بنائیں
گوگل کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر OpenAI اور Anthropic جیسی کمپنیاں AI ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ گوگل کے پاس وسیع انفراسٹرکچر اور صارفین کی بڑی تعداد موجود ہے تاہم AI مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہو چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ میں کاروباری اداروں کے AI سبسکرپشنز میں Anthropic اور OpenAI کا حصہ گوگل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟
گوگل کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کی سمت بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد ایسی AI تیار کرنا ہے جو انسانی سطح کی وسیع ذہانت رکھتی ہو۔ تاہم کمپنی کے ماہرین کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے موجودہ ماڈلز کو مزید خودکار اور مسلسل سیکھنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ AI ٹیکنالوجی کو تیزی سے بہتر بنانے کے لیے مسلسل اپڈیٹس اور تجربات جاری رہیں گے تاکہ صارفین کو زیادہ مؤثر اور جدید سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ
گوگل کی یہ نئی پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کمپنی اپنے روایتی سرچ انجن کو ایک مکمل AI پر مبنی اسسٹنٹ میں تبدیل کرنے کے عمل میں تیزی لا رہی ہے جو آنے والے برسوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے طریقے کو بنیادی طور پر بدل سکتی ہے۔














