خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبہ مستقبل میں تیل و گیس کے شعبے میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ گیس پیدا کرنے والے علاقوں میں صنعتیں قائم کر کے مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مالی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریق مل کر جدوجہد کریں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تیل و گیس کی نئی دریافتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مستقبل میں صوبہ اس شعبے میں ایک اہم حصہ دار بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں گیس دریافت ہوگی وہاں صنعتی یونٹس اور کارخانے بھی لگائے جائیں گے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا: مزمل اسلم کی بحیثیت وزیر تعیناتی متنازع، اسپیکر نے حکومت سے جواب طلب کرلیا
انہوں نے کہا کہ جس طرح سندھ میں گیس پیدا کرنے والے علاقوں میں فرٹیلائزر فیکٹریاں قائم ہیں، اسی طرز پر خیبرپختونخوا میں بھی صنعتوں کو حصہ دیا جائے گا تاکہ صوبے کی معیشت مضبوط ہو اور مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ بجٹ کے دوران وہ دوبارہ گورنر اور دیگر متعلقہ حکام سے درخواست کریں گے کہ ضم شدہ اضلاع کو زیادہ سے زیادہ فنڈز اور سہولتیں دی جائیں کیونکہ ان علاقوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود بھی ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں اور ان مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی حالیہ پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام ادائیگیاں وقت پر کی جا رہی ہیں، تاہم کئی معاملات ایسے ہیں جن پر صوبہ اپنا مؤقف رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ترقیاتی فنڈ اے آئی پی اپریل 2026 میں جاری کیا گیا، جبکہ یہ جولائی میں جاری ہونا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’اب اسکول کھلنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا کریں‘، مزمل اسلم کا پنجاب میں 3 روزہ تعطیلات پر طنز
مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے واجبات، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز جیسے معاملات صوبے کے بنیادی حقوق ہیں اور ان کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتیں مل کر آواز اٹھائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور گورنر کی جانب سے بھی اس معاملے پر مکمل تعاون اور یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ یہ صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مقدمہ ہے۔
مزمل اسلم نے آخر میں وزیراعظم اور وفاقی وزیر پیٹرولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پریس کانفرنس کے بعد متعلقہ وزارتوں کو فوری ہدایات جاری کی گئیں اور معاملہ 2 سے 3 روز میں حل کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ معاملات کو پریس کانفرنسوں اور دباؤ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے۔














