اقوامِ متحدہ کے بچوں کے تحفظ کے ادارے ’یونیسیف‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کو خسرہ کی ویکسین کی ممکنہ قلت اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں وبا پھیلنے کے خطرے کے بارے میں بارہا خبردار کیا تھا، لیکن حکام بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ بے قابو، سینکڑوں بچے لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں اسپتال میں داخل
ایک پریس بریفنگ کے دوران یونیسیف کی نمائندہ رانا فلاورز نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے ادارے نے سال 2024 سے 2026 کے درمیان وزارتِ صحت کے حکام کو 5 سے 6 سرکاری خطوط بھیجے اور تقریباً 10 ملاقاتیں کیں۔
رانا فلاورز نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے سال 2024 سے ہی حکومت کو متنبہ کرنا شروع کردیا تھا کہ ویکسین کی یہ قلت ایک بڑی وبا کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بار بار الرٹ جاری کیے جانے کے باوجود ویکسین کی خریداری کے عمل میں مسلسل تاخیر کی جاتی رہی، جس کا نتیجہ اب سامنے آرہا ہے۔

یونیسیف کے مطابق یہ بحران فنڈز کی کمی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا۔ رانا فلاورز کا کہنا تھا کہ وزارتِ مالیات نے بجٹ میں ویکسین کی خریداری کے لیے رقم پہلے ہی مختص کررکھی تھی، لیکن اصل مسئلہ خریداری کے طریقہ کار سے متعلق حکومتی فیصلوں میں سستی اور تاخیر کی وجہ سے پیدا ہوا اور وہ اس معاملے کی کسی بھی ممکنہ تحقیقات کا خیرمقدم کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق یونیسیف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چائبان نے بھی پچھلے سال اپنے دورہِ ڈھاکہ کے دوران بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے ساتھ ملاقاتوں میں اس شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: خسرے کی نگرانی میں شدت، وسیع تر وبا کا خدشہ
یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بنگلہ دیش بھر میں خسرہ کے انفیکشن اور اس سے ہونے والی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے اسپتال مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو درست طریقے سے نہ چلانے پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔














