بلوچستان اسمبلی میں ’فرینڈلی اپوزیشن‘ پر سوالات، کیا حکومت کو کھلا میدان مل گیا؟

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان اسمبلی میں اس وقت حکومتی اتحاد میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں شامل ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتیں اپوزیشن بینچوں پر موجود ہیں۔

تاہم صوبے کی سیاسی فضا میں گزشتہ 2 برس کے دوران اپوزیشن کے کردار پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور سیاسی حلقوں میں فرینڈلی اپوزیشن کی اصطلاح بھی زیر بحث ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ، کن افراد سے گاڑیاں واپس لی جائیں گی؟

اپوزیشن وہ کردار ادا نہیں کر سکی جس کی عوام کو توقع تھی، مولانا ہدایت الرحمان

حزب اختلاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمان نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 2 سال گزرنے کے باوجود بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن وہ مؤثر کردار ادا نہیں کر سکی جس کی عوام توقع رکھتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ بارڈر بندش، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، ٹرانسفر پوسٹنگ اور عوامی نمائندوں سے عدم مشاورت جیسے اہم مسائل پر حکومت کو سخت دباؤ میں لانے کی ضرورت تھی، مگر ایسا نہیں ہو سکا۔

مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے اور متفقہ قراردادوں، تقاریر اور عوامی مسائل کی نشاندہی کو بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔

انہوں نے خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا نام لیے بغیر کہاکہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ دینے میں ناکام رہی ہیں، جس کے باعث عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔

ان کے بقول اپوزیشن کا کردار ذاتی حملوں یا بداخلاقی پر مبنی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حکومت کی خامیوں کی نشاندہی، تنقید اور اصلاح کے لیے مضبوط پارلیمانی دباؤ ڈالنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر دکھائی دیتے ہیں، ثنا بلوچ

دوسری جانب سابق رکن اسمبلی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رہنما ثنا بلوچ نے بھی اپوزیشن کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب کسی معاشرے میں حقیقی سیاست اور جمہوری اقدار کمزور ہو جائیں تو ایسے عناصر ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جن کی نہ سیاسی تربیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ نظام کو سمجھتے ہیں۔

ثنا بلوچ کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن ایک ہی پیج پر دکھائی دیتے ہیں، اور گزشتہ 2 برس میں حکومت نے جو فیصلے کرنا چاہے، انہیں ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کی مکمل حمایت حاصل رہی۔

انہوں نے کہاکہ سیاستدان دراصل عوام کی سیاسی تربیت کرتے ہیں، مگر بلوچستان میں اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی تربیت کرنا پڑ رہی ہے۔

ان کے مطابق اگر اپوزیشن اپنا مؤثر کردار ادا نہ کرے تو جمہوری نظام عوام کو کبھی حقیقی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

اپوزیشن کی کمزور مزاحمت نے حکومتی اتحاد کو نسبتاً کھلا میدان فراہم کیا، تجزیہ کار

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی کمزور مزاحمت نے حکومتی اتحاد کو نسبتاً کھلا میدان فراہم کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان واضح حکمت عملی اور مشترکہ مؤقف کا فقدان بھی نمایاں نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عوامی مسائل، خصوصاً بارڈر تجارت، بدامنی، بے روزگاری اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم جیسے معاملات پر اسمبلی کے اندر وہ شدت دکھائی نہیں دی جو ماضی میں بلوچستان کی سیاست کا خاصا سمجھی جاتی تھی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا زرعی شعبے کے لیے ریلیف پیکج کا اغاز، کتنے کسان مستفید ہونگے؟

مبصرین کے مطابق اگر اپوزیشن نے آنے والے دنوں میں فعال، مؤثر اور متحدہ کردار ادا نہ کیا تو نہ صرف پارلیمانی سیاست مزید کمزور ہو جائے گی بلکہ عوامی اعتماد کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp