خطے میں جاری کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے کسانوں کے لیے زرعی ریلیف پیکج متعارف کرا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا بلوچستان کے طلبہ کے لیے 460 اسکالرشپس کا اعلان، اسکالر شپ کا طریقہ کار کیسے ہوگا؟
اس طرح گندم کے کاشتکاروں کے لیے تھریشر فیول سبسڈی اسکیم پر باقاعدہ عملدرآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 3,102 کسانوں کے اکاؤنٹس میں سبسڈی منتقل کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ 2 سے 3 روز میں مزید 13,128 کاشتکاروں کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔
میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ صوبہ بھر میں اب تک 85 ہزار سے زائد کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جن میں سے 74 ہزار سے زیادہ کی تصدیق مکمل کی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کے لیے کسان پیکج: وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدے پر دستخط
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ تیار گندم کی فصل رکھنے والے چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ بڑھتے اخراجات کے باوجود اپنی فصل محفوظ بنا سکیں۔
ان کے مطابق فیول سبسڈی کے ذریعے تھریشر کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور کاشتکاروں پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کسانوں کی رجسٹریشن اور تصدیقی عمل مسلسل جاری ہے اور تمام اہل چھوٹے کاشتکاروں کو مرحلہ وار سبسڈی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان خشک سالی کی لپیٹ میں، بارشوں میں شدید کمی کے بعد قابل کاشت رقبہ مزید سُکڑ گیا
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان مشکل معاشی حالات میں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور زرعی پیداوار کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔













