28ویں آئینی ترمیم سے متعلق بحث نے 27ویں آئینی ترمیم کے باقاعدہ پیش ہونے سے پہلے ہی سیاسی حلقوں میں گہما گہمی پیدا کر دی تھی۔ سینیئر سیاستدان فیصل واڈا نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ حکمران اتحاد کو 2 تہائی اکثریت حاصل ہے اس لیے 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری حکومت کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہوگا اور یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟
گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک بار پھر آئینی ترمیم سے متعلق افواہوں اور سیاسی بحث میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ بجٹ سے قبل نئی آئینی ترمیم پیش کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم میں اہم انتظامی اور مالیاتی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا تھا جن میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق امور بھی شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے ایسی تجاویز بھی زیر غور آئیں جن کے تحت صوبوں کے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے پر غور کیا گیا جبکہ یونین کونسل کی سطح تک اختیارات اور فنڈز کی منتقلی کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔
اسی طرح قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے موجودہ طریقہ کار میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی سیاسی حلقوں میں گفتگو جاری رہی۔ تاہم اب حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ فی الوقت یا آئندہ بجٹ سے قبل 28ویں آئینی ترمیم کے پیش ہونے کا امکان کم ہے۔
مزید پڑھیے: کیا 28ویں آئینی ترمیم ایران امریکا مذاکرات کے باعث پس منظر میں چلی گئی؟
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے متعلق باتیں انہیں میڈیا کے ذریعے ہی معلوم ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق نہ تو انہیں اس حوالے سے کسی سطح پر آگاہ کیا گیا ہے اور نہ ہی مجوزہ ترمیم کا کوئی خاکہ ان کے علم میں ہے۔
علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا ہے کہ پارٹی کی کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی یا کسی بھی فورم پر 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق کوئی بات زیر بحث نہیں آئی۔
ان کے مطابق اگر حکومت کسی قسم کی تیاری کر رہی ہے تو اس کے خدوخال یا ترمیم پیش کیے جانے کے وقت کے حوالے سے اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ بجٹ سے قبل 28ویں آئینی ترمیم آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن)، وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کا متفقہ مؤقف ہے کہ اتحادی جماعتوں کی رضامندی کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق آئینی ترمیم جیسے اہم معاملے پر تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت ضروری ہے اس لیے آئندہ 10 سے 15 دنوں میں کسی بڑی پیشرفت کا امکان نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: 18ویں ترمیم کے وقت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر سیاسی بحث جاری رہے گی اور جب بھی اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوگا تو ترمیم سامنے آ سکتی ہے بصورت دیگر اس کی منظوری ممکن نہیں ہوگی۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی بجٹ سے قبل آئینی ترمیم سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت باضابطہ طور پر کسی آئینی ترمیم پر کام نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی سیشنز جاری ہیں اور بجٹ سے قبل ایسی کسی پیشرفت کا امکان نظر نہیں آتا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں سے کچھ وعدے کیے گئے تھے جن پر پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 28 ویں آئینی ترمیم کب آئے گی؟ وزیراطلاعات نے بتا دیا
ان کے مطابق اتحادیوں سے کیے گئے وعدوں اور بعض اصلاحات کے تناظر میں مستقبل میں 28ویں آئینی ترمیم لائی جا سکتی ہے تاہم بجٹ سے قبل اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔













