کیا 28ویں آئینی ترمیم ایران امریکا مذاکرات کے باعث پس منظر میں چلی گئی؟

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم تاحال پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی جا سکی۔ گزشتہ سال نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم نہایت تیزی سے زیرِ بحث آئی اور مختصر وقت میں منظور بھی کر لی گئی جس کے بعد 28ویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور توقعات مزید مضبوط ہو گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے: رانا ثنااللہ نے تصدیق کردی

اس دوران حکومتی شخصیات اور فیصل واوڈا سمیت متعدد رہنماؤں نے عندیہ دیا تھا کہ یہ ترمیم جلد سامنے لائی جائے گی تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی عملی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

27 جنوری کو وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے اتحادی جماعتوں سے مشاورت بھی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے قبل بلکہ اپریل کے آخر تک ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی تاہم عملی طور پر اب تک اس سلسلے میں کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ اعلیٰ سطح کی مصروفیات اور بدلتی ہوئی حکومتی ترجیحات ہیں۔ ان کے بقول حکومت اور کابینہ کے اہم اراکین حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی روابط اور خطے کی مجموعی صورتحال پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جس کے باعث آئینی ترمیم پر پیش رفت سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی پیشرفت نے وقتی طور پر حکومتی توجہ اندرونی قانون سازی سے ہٹا دی ہے جس کے اثرات 28ویں آئینی ترمیم کی پیشرفت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق تاخیر کی ایک اور اہم وجہ اتحادی جماعتوں کا بدلتا ہوا رویہ بھی ہے۔ جہاں ابتدا میں اتحادی حکومت پر ترمیم جلد از جلد لانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے وہیں اب ان کی جانب سے خاصی عجلت دکھائی نہیں دے رہی۔

ذرائع کے مطابق موجودہ سیاسی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر اتحادی جماعتیں بھی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے باعث اس معاملے پر پیش رفت مزید سست پڑ گئی ہے۔

مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانے، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں اصلاحات شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا تاہم تاحال اس پر پیشرفت غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے سرگرمیاں جاری تھیں اور قوی امکانات تھے کہ یہ جلد سامنے آ جائے گی تاہم موجودہ حالات میں حکومت اور ریاستی اداروں کی توجہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور اس میں پاکستان کے ثالثی کردار پر مرکوز ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں: 18ویں ترمیم کے وقت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا، خواجہ آصف

ان کے مطابق اگر خطے میں جاری تناؤ میں کمی آتی ہے اور حکومت کو داخلی امور پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے تو 28ویں آئینی ترمیم مستقبل قریب میں پیش کی جا سکتی ہے تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی واضح پیشرفت نظر نہیں آ رہی۔

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے کہا کہ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے تاہم اس کے وقت کا تعین خطے کی موجودہ صورتحال سے مشروط ہے۔

ان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس وقت دیگر اہم معاملات میں مصروف ہیں جس کے سبب اس ترمیم پر پیشرفت وقتی طور پر سست پڑ گئی ہے۔

احمد ولید کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم کے نکات پر مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سمیت متعدد امور پر تحفظات اور اعتراضات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد ہی ترمیم کو حتمی شکل دے گی۔

یہ بھی پڑھیے: 28ویں ترمیم کا معاملہ التوا کا شکار ہوا یا بات منسوخی تک پہنچ گئی؟

احمد ولید نے مزید کہا کہ اگرچہ اس وقت اس معاملے پر خاموشی دکھائی دے رہی ہے تاہم امکان یہی ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کسی نہ کسی شکل میں سامنے آئے گی اور آئندہ دنوں میں اس پر پیشرفت متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp