اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امریکا نے فلسطینی سفیر کو دھمکی دیدی

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لیں، بصورت دیگر فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک داخلی سفارتی مراسلے میں، جسے ’حساس مگر غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، یروشلم میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ریاض منصور کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدواری ’کشیدگی میں اضافہ‘ کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ میں فلسطین کے حق میں قرارداد کثرت رائے سے منظور، اسرائیل سے قبضہ چھوڑنے کا مطالبہ

مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینی وفد نے نائب صدارت کی امیدواری واپس نہ لی تو امریکا فلسطینی اتھارٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کے تحت انتظامی امور چلاتی ہے۔

امریکی سفارت کاروں کو فراہم کردہ نکات میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ستمبر 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مشن سے وابستہ اہلکاروں پر ویزا پابندیاں نرم کی تھیں۔ مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ’دستیاب آپشنز پر دوبارہ غور کرنا بدقسمتی ہوگی۔‘

اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، البتہ ویزا ریکارڈ کی رازداری کے باعث مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا امن منصوبہ، جو 2  برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔

اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر قابض ہیں، جہاں بیشتر عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور شہریوں کو علاقوں سے انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ریاض منصور پہلے ہی فروری میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے چکے ہیں، تاہم نائب صدارت کے منصب پر منتخب ہونے کی صورت میں بھی وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کی طرف سے ویزا دینے سے انکار پر فلسطینی صدر اقوام متحدہ سے آن لائن خطاب کریں گے

امریکی حکام کے مطابق اگر فلسطینی امیدوار دوڑ سے دستبردار نہ ہوئے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران فلسطینی نمائندہ اہم اجلاسوں کی صدارت کرسکتا ہے، جسے واشنگٹن خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 16 نائب صدور کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو ہوگی۔

واضح رہے کہ فلسطینی وفد اقوام متحدہ میں ’ریاستِ فلسطین‘ کے نام سے نمائندگی کرتا ہے، تاہم اسے مکمل رکنیت حاصل نہیں۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹی کن سٹی کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

انا کی میت، غیرت کا کفن اور برباد ہوتی زندگیاں  !

کنزہ ہاشمی کے ساتھ سیلفی کے لیے آئے مداح کو علی رضا نے کیوں پیچھے ہٹایا؟ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

ترک صدر اردوان اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ، ایران جنگ بندی اور شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 3,000 پوائنٹس سے زائد اضافہ

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟