امریکا نے کیوبا کے سابق صدر اور انقلابی رہنما راؤل کاسترو کے خلاف باضابطہ فوجداری الزامات عائد کر دیے ہیں، جن میں 1996 میں ایک امریکی مخالف تنظیم کے 2 طیاروں کو مار گرانے کے واقعے میں مبینہ کردار شامل ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 94 سالہ راؤل کاسترو پر الزام ہے کہ انہوں نے ’برادرز ٹو دی ریسکیو‘ نامی کیوبا سے جلاوطن امریکی تنظیم کے طیاروں کو مار گرانے کی اجازت دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیوبا کی امریکا کو سخت وارننگ، فوجی کارروائی ہوئی تو ’خونریزی‘ ہوگی
یہ واقعہ 24 فروری 1996 کو پیش آیا جب کیوبا کے ایم آئی جی لڑاکا طیاروں نے فلوریڈا کے قریب بین الاقوامی فضائی حدود میں 2 سیسنا طیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔
واشنگٹن میں فریڈم ٹاور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے بتایا کہ راؤل کاسترو اور دیگر کیوبن فوجی حکام پر ’امریکی شہریوں کے قتل کی سازش اور
طیاروں کی تباہی‘ سمیت 4 الگ الگ قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
JUST IN: Former Cuban President Raul Castro was indicted in the United States, a senior Trump administration official said, in a move that marks an escalation in Washington's pressure campaign against the Caribbean island's communist government https://t.co/5ZfBtaLLht pic.twitter.com/WUkcQ3e1kg
— Reuters Legal (@ReutersLegal) May 20, 2026
ان کے ساتھ مزید 5 سابق کیوبن فوجی افسران بھی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 امریکی شہری اور ایک قانونی مستقل رہائشی شامل تھا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف بی آئی کرس رییا نے کہا کہ چاہے 5 ماہ ہوں، 5 سال یا 5 دہائیاں، امریکا اپنے شہریوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کا پیچھا جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا کو کیوبا سے ڈرون حملوں کا خدشہ، حساس انٹیلیجنس رپورٹ منظرِ عام پر
یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور کیوبا کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیوبا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گا جب تک کیوبا کے عوام کو آزادی نہیں مل جاتی۔
دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کینل نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا
ان کے مطابق یہ مقدمہ ’امریکی طاقت کے غرور اور کیوبا کے انقلاب کے خلاف سیاسی مہم‘ کا حصہ ہے۔
کیوبا کے سفارت خانے نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1994 سے 1996 کے دوران طیاروں کی پروازوں کے حوالے سے متعدد بار امریکا کو آگاہ کیا گیا تھا۔
’اس لیے کسی کو لاعلمی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔‘
یہ مقدمہ امریکا کی ان پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی فوجداری کارروائیاں شامل رہی ہیں۔














