سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق معاملے پر ان کی قانونی ٹیم نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کر دی ہے۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رجسٹرار آفس نے اختیارات سے تجاوز کیا اور دستیاب ریکارڈ کو نظر انداز کیا، جبکہ درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ انتظامی نہیں بلکہ عدالتی فورم پر ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ
چیمبر اپیل میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس وقت اڈیالہ میں قید ہیں، اور انہیں وکالت نامے پر دستخط کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپیل میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ وکلا نے متعدد بار اڈیالہ جیل جا کر دستخط لینے کی کوشش کی مگر انہیں رسائی نہیں دی گئی۔ اسی طرح پاور آف اٹارنی کورئیر کے ذریعے بھی بھجوائی گئی، تاہم حکام کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اسی معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی علیحدہ رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے، تاہم مجبوری کے تحت موجودہ درخواست اٹارنی کے ذریعے دائر کرنا پڑی۔
چیمبر اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ رجسٹرار آفس کا 18 مئی 2026 کا اعتراضاتی حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے، درخواست کو نمبر لگا کر باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور کیس کو فوری بنیادوں پر سماعت کے لیے سنا جائے۔














