خیبرپختونخوا جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال اور انتظامی کارکردگی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ چار کروڑ عوام کا ہے مگر یہاں کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیں:ارباب نیاز اسٹیڈیم کے نام کی تبدیلی، پشاور ہائیکورٹ نے گائیڈ لائنز پر سوال اٹھا دیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں لارجر بینچ کے کریمنل جسٹس سسٹم سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان نے کی۔ سماعت کے دوران چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری بتائیں کہ لارجر بینچ کے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا، جبکہ پیش کی گئی رپورٹ میں کوئی مؤثر پیش رفت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن سسٹم کو مضبوط بنانے کے احکامات دیے گئے تھے مگر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک 4 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے جو ’جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں‘، جبکہ جنوبی اضلاع خصوصاً ڈی آئی خان، کرک اور ٹانک دہشتگردی سے شدید متاثر ہیں اور وہاں صورتحال انتہائی خراب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈی آئی خان نہیں جا سکے، جبکہ سرکاری افسران کی وہاں عدم موجودگی افسوسناک ہے۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر عدلیہ کی ایک خاتون جج وہاں ڈیوٹی انجام دے سکتی ہے تو دیگر افسران کیوں نہیں جاتے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صوبے میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث نمونے لاہور بھیجے جاتے ہیں اور ایک ٹیسٹ پر تقریباً 11 لاکھ روپے خرچ آتا ہے، جو انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، اور اگر کوئی افسر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے تمباکو کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے عدالت سے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ دو سے تین ہفتے دیے جائیں، وہ خود معاملے کا جائزہ لیں گے اور رپورٹ عدالت کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔

اس پر چیف جسٹس نے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ جو افسران کام نہیں کر رہے انہیں فارغ کیا جائے اور اہل افسران کو تعینات کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کہیں سیاسی مداخلت ہو رہی ہے تو عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘