اسرائیلی حکام نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ کے تمام گرفتار ارکان کو رہا کرنے کی تصدیق کردی ہے۔ حراست میں لیے گئے امدادی کارکنوں کو اب اسرائیل سے ترکیہ منتقل کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کی روک تھام کی شدید مذمت، عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار
امریکا میں مقیم فلسطینی حقوق کی تنظیم ’عدالہ‘ کے مطابق رہا ہونے والے امدادی کارکنوں کو اسرائیل بدر کرنے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب، ترکیے کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان رضاکاروں کو بحفاظت ترکیے منتقل کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فورسز نے کارروائی کے دوران ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کی تمام امدادی کشتیاں اپنی تحویل میں لے لی تھیں اور پاکستان کے سعد ایدھی سمیت 430 بین الاقوامی رضاکاروں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے 7 جہاز تحویل میں
اسرائیل کے اس اس وحشیانہ اقدام پر پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت مذمتی بیانات جاری کیے تھے۔
حراست کے دوران بین الاقوامی امدادی کارکنوں کو شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی اہلکاروں نے رضاکاروں پر ٹیزر گنز کا استعمال کیا اور ربڑ کی گولیاں چلائیں، جبکہ متعدد مسلم خواتین شرکا کے حجاب بھی زبردستی اتار دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کے قیدیوں کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟ سویڈش کارکن نے پردہ فاش کردیا
انسانی حقوق کی پامالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے متعصب اسرائیلی وزیرِ داخلہ ‘بین گویر’ نے خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس بدسلوکی کی ایک ویڈیو شیئر کی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرفتار شدگان کو انتہائی تذلیل آمیز طریقے سے گھٹنوں کے بل زمین پر بٹھایا گیا ہے۔













