مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے خبردار کیا ہے کہ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کیے جانے والے زیادہ تر روایتی کام بہت جلد مصنوعی ذہانت کے کنٹرول میں چلے جائیں گے۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام ملازمتیں جہاں لوگ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر بطور وکیل، اکاؤنٹنٹ، پروجیکٹ مینیجر، یا مارکیٹنگ کے ماہر کے طور پر کام کرتے ہیں، ان کے زیادہ تر فرائض اگلے 12 سے 18 ماہ کے اندر مصنوعی ذہانت کے ذریعے مکمل طور پر خودکار نظام میں تبدیل ہوجائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی‘ انقلاب: خواتین اور دفتری ملازمین کی نوکریاں خطرے میں، اقوام متحدہ کی وارننگ
انہوں نے کہا کہ ان تمام پیشوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان میں کمپیوٹر پر دہرائے جانے والے ذہنی کام شامل ہوتے ہیں، جیسے کہ قانونی تحقیق، دستاویزات کی تیاری، مالیاتی تجزیے اور تشہیری مہمات کی منصوبہ بندی۔

انہوں نے سافٹ ویئر کوڈنگ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اب صرف انسانی مہروں کی مدد نہیں کر رہی، بلکہ کئی شعبوں میں زیادہ تر کام خود تیار کر رہی ہے، جس کے بعد اب انسانی انجینئرز کا کام صرف نگرانی کرنا اور غلطیاں نکالنا رہ گیا ہے۔
اسی طرح شعبہ طب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید سسٹمز انسانی ڈاکٹروں کے مقابلے میں زیادہ درستگی کے ساتھ بیماری کی تشخیص کا عمل سرانجام دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر ختم ہوجائیں گے، بلکہ ان کے کام کی نوعیت بدل جائے گی اور اب ڈاکٹر کا اصل کام صرف مرض کا پتہ لگانا نہیں، بلکہ صحیح وقت پر صحیح علاج فراہم کرنا اور مریض کو جذباتی سہارا دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
ملازمتوں پر اثرات کے علاوہ، انہوں نے مائیکروسافٹ کے طویل مدتی منصوبوں کا بھی انکشاف کیا، جس کا مقصد انتہائی اعلیٰ درجے کی ذہانت کا حصول اور دیگر بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ اگرچہ مائیکروسافٹ نے اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ معاہدے میں2 ہزار بتیس تک توسیع کر دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کمپنی اپنے بنیادی ماڈلز بھی تیار کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خود کفالت کا مطلب اپنے ماڈلز تیار کرنا ہے، اور اس کے لیے کمپنی بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا کی تنظیم پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔













