دنیا کے امیر ترین شخص ایک بار پھر خبروں میں ہیں لیکن اس بار وجہ صرف دولت نہیں بلکہ مریخ پر انسانی بستی بسانے کا خواب ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اگر کمپنی مریخ پر 10 لاکھ افراد کی کالونی قائم کرنے اور خلا میں جدید ڈیٹا سینٹرز بنانے میں کامیاب ہو گئی تو ایلون مسک کو اربوں ڈالر مالیت کے اضافی شیئرز دیے جائیں گے۔
امریکی ریگولیٹری ادارے میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق اسپیس ایکس نے ایلون مسک کے لیے ایک خاص کارکردگی پر مبنی منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگر کمپنی اپنی مقررہ بڑی کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو مسک کو اضافی شیئرز ملیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ کیوں ہارے؟ تکنیکی وجہ سامنے آگئی
رپورٹ کے مطابق جنوری میں اسپیس ایکس کے بورڈ نے ایلون مسک کو ایک ارب کلاس بی شیئرز دینے کی منظوری دی جو مختلف مراحل میں دیے جائیں گے۔ تاہم یہ شیئرز اسی وقت مکمل طور پر مل سکیں گے جب کمپنی کی مالیت 7.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے اور مریخ پر کم از کم 10 لاکھ افراد پر مشتمل مستقل انسانی کالونی قائم ہو جائے۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک اس وقت اسپیس ایکس میں 85 فیصد سے زیادہ ووٹنگ پاور رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کمپنی کے اہم فیصلوں پر ان کا مضبوط کنٹرول موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیجنگ: ایلون مسک کی استقبالیہ تقریب کے دوران تصاویر اور ویڈیوز نے چینی انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
گزشتہ سال ایلون مسک نے کمپنی کے موجودہ اور سابق ملازمین سے تقریباً 1.4 ارب ڈالر مالیت کے شیئرز خریدے تھے جس کے بعد کمپنی میں ان کی ملکیت مزید بڑھ گئی۔
اس کے علاوہ نومبر میں بھی مسک کو 302.1 ملین اضافی شیئرز دیے گئے تھے۔ یہ شیئرز اس صورت میں مکمل ہوں گے جب اسپیس ایکس کی مالیت 6.565 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے اور کمپنی خلا میں ایسے جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کر لے جو سالانہ 100 ٹیرا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کر سکیں۔
ایلون مسک پہلے بھی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا سب سے بڑا مقصد انسانوں کو مریخ پر آباد کرنا ہے، اور اسپیس ایکس اسی وژن پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔













