ایلون مسک چین میں ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جنہیں بیک وقت ایک دور اندیش مسیحا اور کبھی کبھار ایک ناپسندیدہ کردار بھی سمجھا جاتا ہے۔
ٹیسلا کے سربراہ کے طور پر وہ ایک طرف تو اپنی تکنیکی مہارت کی وجہ سے قابلِ ستائش ٹھہرے ہیں، لیکن دوسری جانب صارفین کی شکایات پر سستی دکھانے پر انہیں چینی ریگولیٹرز اور عوام کی کڑی تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟
اس وقت وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ کے دورے پر موجود ایک اعلیٰ سطح کے وفد کا حصہ ہیں، جس میں ایپل کے ٹم کک اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔
جمعرات کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں استقبالیہ تقریب کے دوران ان کے جوش و خروش کی تصاویر چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جہاں صارفین نے ان کے اس انداز کو بہت پسند کیا۔
Elon Musk with NVIDIA CEO Jensen Huang, Apple CEO Tim Cook, President Trump, Chinese President Xi Jinping, and members of the U.S. delegation in Beijing. pic.twitter.com/sooA1y9yl1
— DogeDesigner (@cb_doge) May 14, 2026
چین کی حکومت اور ایلون مسک کے مفادات کئی اہم شعبوں جیسے الیکٹرک گاڑیاں، مصنوعی ذہانت، خود مختار گاڑیاں اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے سے میل کھاتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیسلا کو وہاں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
ٹیسلا چین میں بغیر کسی مقامی شراکت دار کے کارخانہ لگانے والی پہلی غیر ملکی کمپنی تھی اور گزشتہ سال اس نے وہاں 6 لاکھ 26 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت کیں، جو ملک کی پانچویں بڑی آٹو کمپنی بن کر ابھری ہے۔
چین ٹیسلا کی مجموعی آمدنی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے اور وہاں کی مقامی کمپنیاں، جیسے ‘چیری’، ٹیسلا کے ڈیزائن اور بیٹری ٹیکنالوجی سے گہرا اثر لیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام
تاہم، مسک کے دیگر کاروباری منصوبے، خاص طور پر اسپیس ایکس اور اسٹار لنک سیٹلائٹ نظام، چینی عسکری اور سفارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
https://twittr.com/WENewsPk/status/2054876961655411035
یوکرین اور روس کے تنازع میں اسٹار لنک کی کارکردگی نے بیجنگ کو خبردار کیا ہے، جس کے بعد چین اب اس کے مقابلے میں اپنے مقامی متبادل نظام تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اس کے علاوہ ماضی میں ٹیسلا کو اپنی گاڑیوں کے کیمروں کے باعث سیکیورٹی خدشات کی بنا پر فوجی تنصیبات میں داخلے سے بھی روکا گیا تھا، جو مسک کے 2024 کے دورے اور ڈیٹا کی تعمیل کی یقین دہانی کے بعد ہی ختم ہو سکا۔
اگرچہ چینی کمپنیاں اب ٹیسلا کے مقابلے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن ایلون مسک اب بھی چین کی ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک اہم مثال اور نمونہ بنے ہوئے ہیں ۔














