وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے ہانگ کانگ کنونشن کے نفاذ کے لیے باضابطہ قانون سازی مکمل کر لی ہے، جس کے بعد پاکستان اس عالمی کنونشن پر عمل کرنے والا 23واں ملک بن گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جہازوں میں خطرناک مواد کی فہرست کا بل 2026 سینیٹ سے منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت شپ ری سائیکلنگ کے شعبے میں خطرناک مواد کی نگرانی کے لیے ایک مربوط اور مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا۔
وزیر بحری امور کے مطابق، اس قانون سازی کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ اور محفوظ شپ بریکنگ کے عالمی معیارات کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر بحری امور نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ٹینکر اغوا پر رپورٹ طلب کر لی
جنید انوار چوہدری کے مطابق پاکستان میں اب جہازوں کی لازمی انسپکشن اور سرٹیفکیشن کا نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے جدید ٹریسنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ماحول دوست شپ بریکنگ کے فروغ کی جانب ایک بڑا قدم ہیں، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا سیٹلائٹ امیجری اور اے آئی کے ذریعے بحری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ
وزیر بحری امور نے مزید کہا کہ وزارت بحری امور اس تمام نظام کی عملدرآمد اور رپورٹنگ کی قومی فوکل باڈی کے طور پر خدمات انجام دے گی۔
ان کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک سے گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی قانون سازی نہ صرف سرکلر اکانومی کے فروغ میں مدد دے گی بلکہ شپ بریکنگ کے شعبے میں مزدوروں کی حفاظت اور صحت کے معیار کو بھی بہتر بنائے گی۔













