پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ عصمت زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ہدایتکار 50 افراد کے سامنے ان پر چیخا جسے انہوں نے انتہائی توہین آمیز قرار دیا۔
حال ہی میں ایک مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے عصمت زیدی نے شوبز انڈسٹری میں بزرگ فنکاروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے، طویل اوقاتِ کار، معاوضوں میں تاخیر اور نئے اداکاروں کو غیر ضروری ترجیح دیے جانے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
View this post on Instagram
اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 30 سال اس شعبے کو دیے لیکن اب انہیں وہ احترام نہیں ملتا جس کی وہ توقع رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر میں تھکی ہوئی ہوں، بیمار ہوں یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، تب بھی کسی کو اس کی پروا نہیں ہوتی۔
عصمت زیدی نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل دو دن تک نہ سونے، شوٹنگ کے دباؤ اور ذیابیطس سمیت دیگر صحت کے مسائل کے باوجود ان سے کام لیا جاتا رہا۔ ’میں اندر سے بالکل ٹوٹ چکی تھی، ایسے میں ہدایتکار نے تقریباً 50 لوگوں کے سامنے مجھ پر چیخنا شروع کردیا، جو میرے لیے انتہائی توہین آمیز تھا۔ میں اس دن رو پڑی تھی‘۔
یہ بھی پڑھیں: ’میں بھی عزت کی حقدار ہوں‘، اداکارہ نے خاموشی توڑ دی، رویوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ممالک سینئر فنکاروں کو عمر کے ساتھ زیادہ عزت اور سہولت دی جاتی ہے جبکہ یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اداکارہ نے موجودہ ڈراموں کے اسکرپٹس اور مکالموں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب کہانیوں میں معیار باقی نہیں رہا اور اردو زبان کا حسن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ’اب ڈائیلاگ میں کوئی جان نہیں رہی، لوگ کچھ بھی بول رہے ہیں اور اردو زبان کو خراب کیا جا رہا ہے‘۔
عصمت زیدی نے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نئے اداکاروں، خصوصاً مرکزی مرد کردار ادا کرنے والوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ معاون اور سینئر فنکاروں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حنا الطاف شوٹنگ کے دوران مشکوک شخص سے کیسے بچ نکلیں؟ اداکارہ کا تہلکہ خیز انکشاف
انہوں نے طویل شوٹنگ اوقات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات صبح سے رات تک 12 گھنٹے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں عام طور پر 8 گھنٹے کی شفٹ ہوتی ہے۔
اداکارہ نے مزید انکشاف کیا کہ کئی مرتبہ انہیں چار ماہ تک معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا، تاہم وہ ان حالات کو برداشت کرنے پر مجبور رہی ہیں۔













