دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سر کرلینے کے بعد 2 بھارتی کوہ پیماؤں کی واپسی کے دوران موت واقع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندیوں پر، قومی پرچم سربلند کردیا
بھارتی میڈیا کے مطابق نیپال کی ایکسپڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری رشی بھنڈاری نے بتایا کہ ایک کوہ پیما سندیپ آرے واپسی کے دوران شدید تھکن کا شکار ہوگئے۔ گو گائیڈز نے ان کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن تمام کوششوں کے باوجود وہ بچ نہیں سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی دوران پھر ایک اور کوہ پیما ارون تیواری شام تقریباً 5:30 بجے چوٹی پر پہنچے۔ اس کے ساتھ 2 تجربہ کار گائیڈز تھے اور وہ سب مل کر نیچے آ رہے تھے لیکن ہلری اسیٹپ پر وہ تھکن کے باعث گر گئے اور ہمارے گائیڈز اسے واپس نہیں لا سکے۔
واضح رہے کہ ہلری اسٹیپ ماؤنٹ ایورسٹ کی جنوبی چوٹی کی طرف ایک تقریباً عمودی چٹان کی سیڑھی نما چڑھائی ہے جہاں کوہ پیما کو محفوظ چڑھائی کے لیے رسیوں اور گائیڈز کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: نیپالی گائیڈ 32 بار ایورسٹ سر کرنے والے دنیا کے پہلے کوہ پیما بن گئے
تیواری ہلری اسٹیپ کے قریب 4 گائیڈز کی مدد کے دوران انتقال کرگئے جبکہ سندیپ آرے کی موت کیمپ II میں واقع ہوئی جہاں اسے شیپا ریسکیو ٹیم نے نیچے لایا تھا۔
یہ حادثات ایسے وقت آئے جب کئی بھارتی کوہ پیماؤں، بشمول 21 سالہ سانیکا شاہ اور بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی تمام خواتین ٹیم نے ماؤنٹ ایورسٹ کی کامیاب چوٹی حاصل کی۔
اس سال ماؤنٹ ایورسٹ کی چڑھائی کے سیزن میں ریکارڈ تعداد میں 274 کوہ پیماؤں نے ایک ہی دن میں نیپال کے جنوبی بیس کیمپ سے چوٹی تک رسائی حاصل کی۔ موسم کی تاخیر اور کھمبو آئس فال میں رکاوٹوں کی وجہ سے سیزن میں دیر ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ پر کوڑے کے انبار، نیپال نے صفائی کے لیے 5 سالہ منصوبہ بنا لیا
نیپال کی حکام نے اس سال مجموعی طور پر 493 اجازت نامے جاری کیے جو کسی بھی سال میں سب سے زیادہ ہیں جب سے سنہ 1953 میں ٹینزنگ نورگی اور سر ایڈمنڈ ہلری نے پہلی بار ایورسٹ کی کامیاب چوٹی مکمل کی تھی۔













