ڈونلڈ ٹرمپ کی قربانی

ہفتہ 23 مئی 2026
author image

نعمت خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسی عید قرباں پر ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ حلال ہو جائے گا۔ چونکیے مت! وائٹ ہاؤس کے سابق و موجودہ مکین پر فی الحال کوئی آنچ نہیں آئی۔ جس ڈونلڈٹرمپ کی میں بات کر رہا ہوں وہ بنگلہ دیش کے ضلع پٹوآکھالی کے ایک فارم پر پایا جانے والا 700 کلو وزنی ایک ہٹا کٹا بیل ہے۔

فارم کے مالک ضیاء الدین کہتے ہیں کہ ان کے بھائی نے اس بیل کی پیشانی پر لہراتے ہوئے سنہرے بالوں کے ہیلمٹ کو دیکھ کر اس کا نام امریکی صدر کے نام پر رکھ دیا تھا۔ اب اس ٹرمپ کا قصائی سے پالا پڑے گا تو کیا بنے گا، یہ تو عید کے دن ہی معلوم ہوگا۔

برصغیر پاک و ہند  بلخصوص پاکستان اور بنگلہ دیش میں عیدقرباں محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی میلہ ہے۔ یہاں منڈیوں میں جانوروں کی آمد سے لے کر عید کے دن تک جو ہنگامہ برپا ہوتا ہے وہ دنیا کے کسی اور خطے میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

جانوروں کے نام رکھنے کا رجحان تو اب باقاعدہ ایک فن بن چکا ہے۔ کوئی سلطان ہے، کوئی باہوبلی، کوئی شہنشاہ تو کوئی اپنے تیکھے تیوروں اور بھاری بھرکم جسامت کی وجہ سے رستم زماں کہلاتا ہے اور پھر کوئی خوبصورت گائے مدھوبالا کہلاتی ہے۔ منڈی کا ہر بیوپاری اپنے جانور کو کسی مشہور شخصیت یا فلمی کردار کا نام دے کر خریداروں کی توجہ سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

میں اس ہفتے ایک اسٹوری کے سلسلے میں اسلام آباد کے مضافات میں ایک کیٹل فارم پر گیا تو وہاں وی ایٹ کو کھڑا پایا۔ چونکیے مت، یہ کوئی فور بائی فور چمکتی ہوئی گاڑی نہیں تھی بلکہ قربانی کا ایک عالی شان جانور تھا جو اپنے ساتھ کھڑے مہاراجہ، شیر پنجاب اور چہرے پر سنجیدگی سجائے پروفیسر کے ساتھ ہریالی اور چارے کے مزے لوٹنے میں مصروف تھا۔

پھر جب وہاں سے تقریباً 14 میل دور بھاٹا چوک منڈی کا رخ کیا تو شہنشاہ اور بازی گر نامی بیل خریداروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ ان کے گرد ایسا رش تھا جیسے کسی فلمی ستارے کی نئی فلم ریلیز ہوئی ہو۔ قیمتوں پر بحث اپنے عروج پر تھی۔

سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں ہمارے گھروں میں جو آؤ بھگت ان 4 ٹانگوں والے مہمانوں کی ہوتی ہے وہ سال بھر کسی عزیز رشتہ دار کی بھی نہیں ہوتی۔

منڈی سے جانور لاتے ہی گھر کے بچوں کی الگ فوج ظفر موج تیار ہو جاتی ہے۔ کسی کا کام چارے کا انتظام کرنا ہے تو کوئی اس کی پیٹھ سہلا کر دوستی کا دم بھر رہا ہوتا ہے۔ جانوروں کو ایسے سجایا جاتا ہے جیسے وہ کسی فیشن شو کے ریمپ پر اترنے والے ہوں؛ گلے میں پھولوں کے ہار، پیروں میں گھنگھرو اور ماتھے پر چمکتے ستارے۔

یہ الگ بات کہ آج کل ان جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ بھاٹا چوک منڈی میں رونالڈو نامی ایک بیل کی قیمت 22 لاکھ روپے سنی تو میں نے بے اختیار پوچھ لیا: ’بھائی، کچھ زیادہ نہیں؟‘‘

بیوپاری نے کچھ یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو:

کھلاتا ہوں پستہ، کھلاتا ہوں بادام

اسی واسطے 22 لاکھ ہے دام!

ہم تو اتنے مہنگے جانور نہیں خرید سکتے لیکن خریدار بہت ہیں اور جب اتنے مہنگے جانور لائے جائیں تو پھر لاڈ پیار بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ مگر اس محبت کے پیچھے ایک سسپنس عید کی صبح تک برقرار رہتا ہے۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ ذرا سی رسی ڈھیلی ہوئی اور سلطان نے آزادی کا نعرۂ مستانہ بلند کر دیا۔ پھر جو منظر بنتا ہے وہ کسی ہالی ووڈ ایکشن فلم سے کم نہیں ہوتا۔ بیل آگے آگے اور پورا محلہ پیچھے پیچھے! کوئی ہاتھ میں ڈنڈا لیے دوڑ رہا ہے تو کوئی چادر لہرا کر روکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیے: 12 مئی والی ایک لاش بول پڑی

اس بھاگ دوڑ میں کسی کے کپڑے پھٹتے ہیں تو کوئی نالے میں گرتے گرتے بچتا ہے۔ جانور کا پیچھا کرتے ہوئے بوڑھے بھی جوان ہو جاتے ہیں اور جب تک وہ قابو میں نہیں آتا پورے محلے کی سانسیں اترتی چڑھتی رہتی ہیں۔

اور پھر عید کے دن جب قربانی کا مرحلہ آتا ہے تو منظر یکدم تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس جانور کو چند دن پہلے لاڈ سے پالا تھا اس کی رخصتی پر بچوں کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ مگر یہی تو قربانی کا اصل فلسفہ ہے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں نثار کر دینا۔

علامہ اقبال نے اسی جذبے کو یوں بیان کیا تھا:

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم

نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیلؑ

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی گلیوں میں بکھرا یہ رنگ، یہ بھاگتے ہوئے بیل، یہ بچوں کے قہقہے، یہ بیوپاریوں کی آوازیں اور قصائیوں کی مصروفیات ہی دراصل عید قرباں کالازمی حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں آخری اوور

اس بار جب آپ کسی ڈونلڈ ٹرمپ، وی ایٹ یا رونالڈو کو گلی سے گزرتے دیکھیں تو اس کے مالک کی تخلیقی صلاحیت کو داد دینا مت بھولیے گا کیونکہ عید کا یہ میلہ انہی رنگوں سے سجتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp