نائیجیریا میں محمود سادیس بوبا، جو ’ابن العجائب زازو‘ کے نام سے مشہور ہیں ایک ماہ قبل ہی اس وقت سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئے جب ان کی آل پروگریسو کانگریس پارٹی (اے پی سی) میں نائیجیریا کی ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز کے لیے اسکریننگ کا ویڈیو وائرل ہوا۔ لیکن جو ابتدا میں نوجوانوں اور شمولیتی سیاست کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنی وہ جلد ہی پورے ملک میں ایک اسکینڈل میں بدل گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نائیجیریا میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا الرٹ، 33 ریاستیں خطرے کی زد میں
بوبا نے اپنے اسکریننگ ویڈیو میں کہا کہ وہ سینیئر سیکنڈری اسکول کے سرٹیفکیٹ کے حامل ہیں اور پہلے ڈرائیور کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی چھوٹے قد اور بچہ نما شخصیت کو ڈوارف ازم کی وجہ سے قرار دیا لیکن دعویٰ کیا کہ ان کی عمر 30 سال ہے۔
انہوں نے پارٹی کے اراکین سے کہا کہ یہ میرے بارے میں نہیں یہ عوام کے لیے ہے اور لوگوں نے مجھے خدمت کے لیے بلایا ہے جن کی میں خدمت کروں گا۔
یہ سادہ سی بات نائیجیریا کے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی سیاسی جملوں میں شامل ہو گئی۔
ابتدائی طور پر لوگ ’زاریا کے معجزے‘ کی تعریف کر رہے تھے اور اسے نائیجیریا کی سیاست میں تبدیلی کے لیے حوصلہ افزائی سمجھا لیکن جلد ہی بوبا کے نیشنل اسمبلی کے رکن بننے کے امکانات پر سوالات اٹھنے لگے۔ ان کے اسکریننگ ویڈیو میں بوبا نے کہا کہ ان کی تاریخ پیدائش 2 اگست 1995 ہے یعنی وہ 30 سال سے زائد کے ہیں لیکن ان سے جڑی دستاویزات اور لیک شدہ ریکارڈز نے ظاہر کیا کہ وہ اصل میں سنہ 2010 میں پیدا ہوئے یعنی صرف 16 سال کے نوجوان ہیں۔
واضح رہے کہ نائیجیریا میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے امیدواروں کو انتخابات میں ٹکٹ دینے سے قبل ایک باضابطہ اسکریننگ مرحلے سے گزارا جاتا ہے جس میں امیدوار کی عمر، تعلیمی قابلیت، شناختی دستاویزات، سیاسی وابستگی اور قانونی اہلیت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اسی عمل کے دوران محمود سادیس بوبا نے اپنی عمر 30 سال ظاہر کی تھی تاہم بعد میں سامنے آنے والے دستاویزات نے ان کے دعوے پر سوالات اٹھا دیے۔
نائیجیریا کی نیشنل اسمبلی میں امیدوار بننے کے لیے کم از کم عمر 25 سال ہونی چاہیے لیکن بوبا کے معاملے میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ قانون کے مطابق نابالغ ہیں۔ بین الاقوامی بچوں کے حقوق کے مطابق بھی ان کی عمر کم ہے۔
انٹرنیشنل پاسپورٹ، نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈ، برتھ سرٹیفیکیٹ اور اسکول ریکارڈز نے یہ ظاہر کیا کہ بوبا صرف ایک ٹین ایجر ہیں۔ ایک سابق استاد نے بھی تصدیق کی کہ بوبا اس وقت 16 سال کے تھے جب وہ جونیئر سیکنڈری اسکول میں پڑھتے تھے۔
مزید پڑھیے: نائیجیریا میں مسلح افراد کا گاؤں پر دھاوا، 50 افراد ہلاک، متعدد اغوا
انہیں ابن العجائب زازو یعنی زاریا کا معجزہ اس لیے کہا جانے لگا کیونکہ ان کی کم عمری، منفرد جسمانی ساخت اور سیاست میں غیرمعمولی انداز میں سامنے آنے نے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں وہ ایک بڑے سیاستدان کی طرح اعتماد سے گفتگو کرتے دکھائی دیے جس پر بہت سے لوگوں نے انہیں نائیجیریا کی سیاست میں ایک غیرمعمولی اور حیرت انگیز شخصیت قرار دیا۔ زازو دراصل نائیجیریا کے شہر زاریا کا مقامی حوالہ ہے جہاں سے ان کا تعلق بتایا گیا جبکہ ابن العجائب کا مطلب حیرت انگیز شخصیت یا معجزاتی شخص کے طور پر لیا گیا۔
ابتدائی طور پر بوبا کی پارٹی نے ان کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ ان کے خلاف ایک بدنامی مہم ہے لیکن جیسے جیسے شواہد سامنے آئے پارٹی نے انہیں عمر چھپانے کے الزام میں نااہل قرار دے دیا۔ بوبا نے بھی ایک خط میں اعلان کیا کہ وہ فوری طور پر سبون گاری فیڈرل کنزرویئنسی کی ریس سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: نائیجیریا میں خودکش دھماکوں کی لہر، 23 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک 15-16 سالہ نابالغ نوجوان کس طرح اے پی سی کی اسکریننگ سے گزرا اور نائیجیریا کی سیاست کا ابھرتا ہوا ستارہ بن گیا۔ کیا یہ محض لاپرواہی تھی یا کسی نے جان بوجھ کر اس کی امیدواری کروائی؟ ابھی تک اس کے جوابات سامنے نہیں آئے۔













