فیض احمد فیض اور ایم ڈی تاثیر کو اردو ادب میں معتبر مقام حاصل ہے۔ دونوں دوست اور ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم زلف بھی تھے۔ ان کی رفاقت 1950 میں تاثیر کے انتقال سے ختم ہوئی۔
بہت سے ادیبوں سے ان کی مشترکہ دوستی تھی، ان میں سے اکثر کل بھی نامور تھے اور آج بھی ادب میں ان کا پایہ مستحکم ہے۔
مثال کے طور پر پطرس بخاری اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا نام لیا جا سکتا ہے۔ تاثیر اور فیض کے حلقہ احباب میں بس بدرالدین بدر معروف نہیں ہوئے جس کی وجہ غالباً ان کا صاحبِ تصنیف نہ ہونا بھی ہے لیکن ان کی شخصیت کے بارے میں بھی بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔
میں نے ادب کے بارے میں وسیع معلومات رکھنے والے بعض حضرات سے بھی ان کے بارے میں پوچھا تو وہ ان کے وجود سے بے خبر نکلے۔
بدرالدین بدر کے بارے میں لکھنے کا محرک ان کے دوست ایم ڈی تاثیر اور فیض احمد فیض کی بیٹیوں کی کتابیں ہیں جن میں انہوں نے اپنے والد کے دوستوں کے احوال میں بدرالدین بدر کو محبت سے یاد کیا ہے۔
’انکل بدر‘ سے جڑی یادیں بچپن کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں، یہ عرصہ مختصر سہی لیکن سلمیٰ اور سلیمہ کی حسین یادوں کا حصہ ہے۔
بدر تقسیم کے بعد بہت دن نہیں جیے لیکن جانے سے پہلے ان بچیوں کے دل پر محبت کا دائمی نقش ثبت کر گئے۔ بچپن میں کسی نے شفقت، محبت اور توجہ دی ہو تو وہ مہربان ہستی ساری زندگی نہیں بھولتی۔
ایامِ طفلی میں حفظِ مراتب کی بنیاد سماجی اور علمی مرتبے کے بجائے پیار دلار پر ہوتی ہے۔ اس لیے سلمیٰ محمود اور سلیمہ ہاشمی نے اپنے والد کے معروف احباب سے بڑھ کر اجنبی اور بے نشاں بدرالدین بدر کو یاد کیا ہے۔
بدرالدین بدر کی ان بچیوں سے محبت کا رشتہ استوار ہونے میں قصے کہانیوں کا بنیادی کردار تھا۔
سلمیٰ محمود نے اپنے والد ایم ڈی تاثیر کے بارے میں یادداشتوں کی کتاب ’دی ونگز آف ٹائم‘ میں لکھا ہے کہ انکل بدر ان کے والد کے باوفا دوست تھے۔ جن کی ان کے دل میں خاص جگہ ہے کیوں کہ انہوں نے ان کو مطالعہ کے لیے ایسی بہترین کتابیں چن کر مہیا کیں جنہوں نے انہیں بے حد مسرت بخشی۔ انہوں نے سلمیٰ کو Anne of Green Gables ناولوں کی سیریز سے متعارف کرایا۔ کلارنس ڈے کی یادداشتوں سے روشناس کروایا۔ لائف ود فادر اور لائف ود مدر سلمیٰ کو بہت پسند تھیں۔ ان کتابوں میں سے کسی ایک کے مطالعے کے لیے ایک دن وہ اسکول سے آنے کے بعد گھر کے برآمدے کے سامنے آرام کرسی میں سمٹ کر بیٹھ گئیں اور مطالعے میں ایسی غرق ہوئیں کہ کسی کو اپنی آمد کی اطلاع دینے کا ہوش نہ رہا۔ اس پر گھر والے اس قدر پریشان ہوئے کہ انہیں لگا کہ شاید وہ اغوا ہوگئی ہیں۔ وہ گمشدگی کی رپورٹ کروانے پولیس اسٹیشن روانہ ہونے کو تھے کہ انہیں مطالعہ میں منہمک سلمیٰ کا سراغ مل گیا۔
سلمیٰ محمود کی کتاب میں امرتسر کی ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں وہ اپنی والدہ، آنٹی ایلس اور انکل بدر کے ساتھ وکٹوریا کیرج میں بیٹھی ہیں۔
سلمیٰ نے لکھا ہے کہ انکل بدر 1947 میں دلی سے اپنے آبائی شہر لاہور آگئے تھے جہاں گلے کے کینسر کی وجہ سے چند ماہ بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا۔
سلمیٰ محمود کی یہ کتاب 14 سال پہلے سامنے آئی تھی، رواں سال ان کی خالہ زاد بہن سلیمہ ہاشمی کی یادداشتیں 2 جلدوں میں شائع ہوئی ہیں۔ پہلی جلد ’ویٹنگ ان دی ونگز‘ میں انہوں نے اپنے ابا فیض احمد فیض کے دوستوں کے بارے میں اپنی یادوں کا آغاز ہی بدرالدین بدر کے ذکر خیر سے کیا ہے۔
سلیمہ نے لکھا ہے کہ بچپن میں وہ اپنے ہاں تواتر سے آنے والوں کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھیں لیکن ان میں سے انہیں وہ خاص طور پر یاد ہیں جو چھوٹی بچی کے لیے کچھ وقت مختص کر سکتے تھے۔ ان اصحاب میں انہوں نے سب سے پہلے بدرالدین بدر کا نام لیا ہے جنہیں وہ شریف النفس اور محبتی فرد ٹھہراتی ہیں جو ان کے والد کے گرد موجود لکھاریوں کے گروہ کے اہم رکن تھے۔
وہ انہیں بڑی شاندار کہانیاں سناتے اور ان کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ ان سے منسوب سلیمہ کی آخری یاد بھی کہانی سے جڑی ہے جو وہ انہیں دھیمی آواز میں سنا رہے تھے اور وہ ان سے کہہ رہی تھیں ذرا زور سے، ذرا زور سے، اور وہ مسکراتے ہوئے تھوڑا اونچا سنانے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔
سلیمہ کو اس کمسنی میں یہ خبر کہاں تھی کہ اس مشفق ہستی کو تپ دق ہے۔ سلمیٰ محمود کے مطابق انہیں گلے کا کینسر تھا لیکن محمود نظامی نے بھی سلیمہ کی طرح تپ دق کے مرض میں مبتلا ہونے کا لکھا ہے۔ بیماری کے ایام میں ان کے لیے بولنا سہل نہ ہوگا لیکن بچوں سے محبت انہیں کہانی سنانے پر مجبور کرتی تھی۔
سلیمہ کو یہ بات بعد میں معلوم ہوئی کہ بدر نے شیکسپیئر کے ڈرامے ‘اے مڈسمر نائٹ ڈریم’ کو اردو میں منتقل کیا تھا۔
بدرالدین بدر دوستوں کی بیٹیوں کے تاثرات کی روشنی میں ایثار کیش، شفیق، مددگار اور بے غرض انسان کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی یہ خوبیاں ادبی میدان میں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کے مزاج کے کچھ رنگ ان کے دوست اور معروف ادیب غلام عباس کے ایک بیان سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ غلام عباس اور عبدالحمید کی عبدالرحمان چغتائی کے بارے میں گفتگو میں بدرالدین بدر کا حوالہ آتا ہے۔
غلام عباس 1924-25 میں لاہور کے ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب نیرنگ خیال نیا نیا نکلا تھا اور ان کی چغتائی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، اپنی بات کو وہ یوں شروع کرتے ہیں: ‘اس زمانے میں ہمارے ایک دوست ہوتے تھے بدرالدین بدر۔ بڑے ہی خوش مذاق، من چلے، یاروں کے یار۔ خدا مغفرت کرے، شعر تو وہ کم ہی کہتے تھے مگر تخلص بدر ان کے نام کا جزو بن گیا تھا۔’
انگریزی ادب پر ان گہری نظر تھی۔ غلام عباس کو آسکر وائلڈ کے ڈراموں سے انہی نے متعارف کروایا۔ لاہور کی سینٹرل جیل کے چھاپے خانے میں پروف ریڈر تھے لیکن ضعف بصارت کی وجہ سے یہ نوکری چھوڑنی پڑی تو انہوں نے پانی والے تالاب کے پاس پانوں کی دکان کھول لی جہاں شام کو پھڑ جمتا تو اس میں ایم ڈی تاثیر، چغتائی، ڈاکٹر سید نذیر احمد، حکیم یوسف حسن، مولوی مسلم اور غلام عباس شامل ہوتے۔
غلام عباس کے بقول ‘ہم لوگ پان پر پان کھاتے رہتے اور ادب اور آرٹ پر باتیں کرتے رہتے۔ چغتائی صاحب سے میری پہلی ملاقات اسی جگہ ہوئی تھی۔’
یہ دکان جلد بند ہوگئی اور بدرالدین بدر نے خود کو ادب و صحافت سے منسلک کر لیا۔ ’زمیندار‘ اخبار سے بھی ان کی وابستگی رہی۔ دوسری جنگ عظیم میں فوج میں کمیشن ملنے پر وہ دلی چلے گئے۔ سلمیٰ محمود نے لکھا ہے کہ اس نوکری کا بندوبست انکل بخاری (پطرس) نے کیا تھا۔
غلام عباس نے نیرنگ خیال کا حوالہ دیا ہے جس میں ان کی اور بدر کی نگارشات شائع ہوتی تھیں لیکن وہ صرف کنٹری بیوٹر نہیں تھے، ان کا درجہ اس سے بڑھ کر تھا۔ نیرنگ خیال کے ایڈیٹر حکیم یوسف حسن نے نقوش کے ایڈیٹر محمد طفیل کو بتایا: ’میرے ہاں اٹھنے بیٹھنے والوں میں حفیظ جالندھری، ڈاکٹر تاثیر، غلام عباس اور بدر الدین بدر تھے۔ کبھی کبھی عبدالرحمان چغتائی بھی آن نکلتے تھے۔ خوب گپ بازی ہوتی تھی۔ جلیبیاں اور کباب اڑتے تھے۔ چائے کے دور چلتے تھے۔ ادب پر باتیں اور بحثیں ہوتی تھیں یعنی خوب گاڑھی چھنتی تھی۔ ہم سب ایک تھے۔‘
نیرنگِ خیال کے عید نمبر میں بدرالدین بدر کے تعاون کا اعتراف حکیم یوسف حسن نے کچھ یوں کیا تھا: ’میں اپنے مددگار جناب بدرالدین بدر کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے اپنی مساعی سے رسالے کو وقت پر شائع کرنے میں گراں قدر اعانت کی۔‘
اس شمارے میں بدر کا ایک افسانہ ’ایک گز لٹھا‘ شامل ہے جس کے آخر میں ماخوذ از فرانسہ درج ہے۔ طبع زاد کہانی فیجو کے نام سے رسالے کا حصہ ہے۔ غلام عباس ادبی دنیا میں ترجمے کی راہ سے داخل ہوئے تھے۔ بدرالدین بدر بھی افسانوں کو انگریزی سے اردو میں منتقل کرتے تھے جن میں سے غلام عباس کے بقول، ’بابومکر جی‘ اور ’لذت گناہ‘ خاصے مقبول ہوئے تھے۔
غلام عباس اور بدرالدین بدر کے ترجموں کے حوالے سے 1940 میں خضر راہ لاہور میں ایک کتاب کے دلچسپ اشتہار کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے جس کی عبارت بڑی دلچسپ تھی۔
چار آنے میں آٹھ افسانے
ڈاکٹر تاثیر ایم اے پی ایچ ڈی، پروفیسر غلام مصطفیٰ تبسم، بدرالدین بدر، سراج الدین احمد نظامی، غلام عباس ہندوستان کے پانچ مشہور انشا پردازوں نے اناطول فرانس، موپاساں اور 6 دوسرے فرانسیسی انشا پردازوں کے شاہکار افسانوں کو اردو کا لباس پہنایا ہے۔
صرف چار آنہ کا ٹکٹ بھیج کر طلب فرمائیں!
المشتہر دارالادب پنجاب بارود خانہ اسٹریٹ لاہور
حفیظ جالندھری کے معیاری افسانے کے عنوان سے مرتب کردہ مجموعے کے مترجمین میں غلام عباس اور بدرالدین بدر بھی شامل ہیں۔
تاثیر سے بدر کی دوستی کس زمانے میں ہوئی اس کا علم نہیں لیکن محمود نظامی کے بقول ’تاثیر کے جاننے والے صرف یہ جانتے ہیں کہ جب سے انہیں تاثیر کی بزم میں اجازت ملی بدر پہلے سے وہاں موجود تھے۔‘
گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد بچپن سے تاثیر کے ہم جولی تھے۔ انہوں نے تاثیر کے بارے میں اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ 1922-23 کے زمانے میں گرمیوں میں رات کو کھانے کے بعد ہم حضوری باغ میں شاہی مسجد کی سیڑھیوں میں یا بارہ دری کے کسی چبوترے پر سبھا جماتے تھے یہ سلسلہ پانچ چھ سال چلتا رہا۔ یہ محفل رات بارہ بجے تک جمی رہی تھی۔ نذیر احمد کے بقول ’موضوع گفتگو شعر، راگ، مقامی یا قومی سیاست اور اپنے واقفوں کے قصے ہوتے۔‘
ڈاکٹر نذیر نے اس محفل کے مستقل حاضر باشوں میں بدرالدین بدر کا نام بھی لکھا ہے۔
یہ گھر سے باہر تاثیر کی سرگرمیوں کی ایک جھلک ہے، بارود خانے والے گھر میں ان کا کمرہ علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ مستقل حاضرین میں غلام عباس اور بدرالدین بدر شامل تھے۔
اس کمرے کا نقشہ پروفیسر حمید احمد خان نے اپنے مضمون ’تاثیر زندہ باد‘ میں کچھ یوں کھینچا ہے: ’کمرے کا مجموعی نقشہ ایسا ضرور تھا کہ کتابیں اور تصویریں اس پر چھائی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ اس کمرے میں چغتائی کی تصویریں کثرت سے ملتی تھیں۔ یہاں مغربی موسیقی کے لاجواب ریکارڈ سننے میں آتے تھے۔ لاہور کے ادیبوں سے ملاقات ہوتی تھی۔ کبھی کبھی کوئی لذیذ کتاب مثلاً فرینک ہیرس کی خود نوشتہ سوانح عمری پڑھنے کو مل جاتی تھی۔ اس ہنگامے کے درمیان تاثیر صاحب فراست و ظرافت اور فراغت و عیش کا دیوتا بنے بیٹھے رہتے تھے۔ یہیں وہ چونے منڈی کے چٹپٹے کباب اور بیتھوون کے آسمانی سرود سے بیک وقت لذت اندوز ہوتے تھے۔ نیرنگ خیال کے اختراعات نے یہیں جنم لیا، کارواں یہیں سے جاری ہوا، دور شباب کی نظمیں اور تنقیدیں یہیں قلم بند ہوئیں، بے شمار کتابیں یہیں پڑھی گئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مستقبل کے متعلق منصوبے یہیں باندھے گئے۔‘
تاثیر اور ان کے تین دوست نذیر احمد، غلام عباس اور بدر اس کمرے کے تنگنائے سے نکل کر ایم اسلم کے کمرے میں بھی آتے جاتے رہتے تھے اور وہ انہیں پیار سے اپنے کمرے میں منڈلانے والے بھوت قرار دیتے تھے۔
1959 میں ایم اسلم نے غلام عباس کے نام خط میں شکوہ کیا: ’سنا تھا کہ آپ لاہور آئے تھے لیکن کس قدر حیرت اور افسوس ہے آپ کو مجھ سے ملنا تک گوارا نہ ہوا۔ ایک وہ وقت بھی تھا جب آپ قریباً ہر روز مجھ سے ملنے آیا کرتے تھے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔‘
نیاز مندان لاہور کے نام سے جس حلقے نے بڑی شہرت حاصل کی تھی اس کے اراکین میں پطرس، ایم ڈی تاثیر، عبدالمجید سالک، امتیاز علی تاج، صوفی تبسم، حفیظ جالندھری، عبدالرحمان چغتائی، چراغ حسن حسرت، ہری چند اختر شامل تھے۔
ڈاکٹر آفتاب احمد کے بقول ’تاریخی اعتبار سے 1920 کی دہائی کے وسط سے لے کر1930 کی دہائی کے وسط تک پنجاب میں اردو ادب کی فضا پر یہ حلقہ چھایا رہا۔‘
یو پی کے اہل زبان سے نیازمندان لاہور کے ادبی معرکوں کے سرخیل پطرس، تاثیر، سالک اور تاج تھے۔ محمد طفیل نے ان کے مددگاروں میں حفیظ جالندھری، ہری چند اختر، غلام عباس، بدرالدین بدر اور حکیم یوسف حسن کا نام لکھا ہے۔
سنہ 1933میں تاثیر کی زیر ادارت کارواں کے پہلے پرچے میں بدرالدین بدر کا ڈراما شائع ہوا تھا، یہ پرچہ کوچہ چابک سواراں سے نکلتا تھا۔
اسی کوچے سے غلام مصطفیٰ ’حیرت فردوس‘ کے نام سے پرچہ نکالتے تھے۔ وہ انوکھی وضع کے انسان تھے۔ معروف ترقی پسند عبدالرؤف ملک نے ’سرخ سیاست‘ میں لکھا ہے کہ یہ رسالہ 1925 کے لگ بھگ نکلنا شروع ہوا تھا۔ اسے نامور لکھاریوں کا قلمی تعاون حاصل تھا۔ بدرالدین بدر بھی اس کے ایڈیٹر رہے۔ ان کی زیر ادارت فردوس کے 1933 میں شائع ہونے والے ایک پرچے کی سافٹ کاپی میرے پاس محفوظ ہے۔
بدرالدین بدر کے قلم سے شذرات کا آغاز ان لفظوں میں ہوتا ہے: ’حضرت علامہ اقبال سفر یورپ سے واپس تشریف لے آئے ہیں۔ اس مرتبہ آپ یورپ کے دیگر ممالک کے علاوہ ہسپانیہ بھی گئے۔‘
شذرات میں کے ایل گابا کے قبول اسلام کی خبر اور حفیظ جالندھری کی کتاب ’سوزو ساز‘ کی اشاعت کی اطلاع بھی ہے۔
اس شمارے میں جناب فیض احمد صاحب فیض بی اے کی نظم ’آخری خط‘ شائع ہوئی تھی۔
نیازمندان لاہور کی مجلس 1937 میں پطرس بخاری کے آل انڈیا ریڈیو میں چلے جانے سے برہم ہوئی، اس سے پہلے تاثیر ایم اے او کالج کے پرنسپل ہو کر امرتسر چلے گئے تھے۔ غلام عباس آل انڈیا ریڈیو کے رسالے آواز سے متعلق ہو کر دلی سدھارے۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہونے کے بعد بدرالدین بدر نے بھی دلی کی راہ لی۔
اس زمانے میں خط لکھنے کا رواج تھا، اس لیے ڈار سے بچھڑے خطوں کے وسیلے سے آپسی روابط قائم رکھتے تھے۔ خط نہ لکھنے والے دوستوں کی سرزنش ہوتی تھی اور انہیں قلم کو حرکت دینے پر اکسایا جاتا تھا۔
محمود نظامی کے نام ایک خط کو سمیٹتے ہوئے تاثیر نے کیمبرج سے لکھا تھا ’اگلی دفعہ مفصل تر لکھوں گا۔ اب ڈاک کی بے ترتیبی اور سعیداللہ اور بدر کے نام لمبے خط لکھنے کی وجہ سے وقت کم رہ گیا ہے۔‘
غلام عباس کے نام خط میں چراغ حسن حسرت نے لکھا تھا: ’بدر کے خط سے تمہاری ترقی کا حال معلوم ہوا۔ شکر کہ تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔ میں نے ہر چند چاہا کہ تمہیں کسی طرح خط لکھنے پر آمادہ کر سکوں۔ بدر اور تاثیر کے نام خطوں میں بار بار تمہاری افسانہ نگاری اور افسانہ خوانی کا ذکر کیا کہ شاید تمہیں غصہ آئے اور تم خط لکھ ڈالو لیکن تم پر کوئی اثر نہ ہوا۔‘
محمود نظامی نے اپنے نام تاثیر کے کیمبرج کے زمانے کے خط ’عزیزم کے نام‘ سے شائع کیے تو ان کے حواشی میں بدرالدین بدر کا تذکرہ بھی ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوتا ہے: ’بدرالدین بدر مرحوم تاثیر کے ان پُرخلوص دوستوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی عمر رفیقوں کی خدمت گزاری میں ہی کاٹ دی اور آخر اسی خدمت میں جان دے دی۔ ‘
دلی میں بدرالدین بدر فوجی اخبار کی ادارت کرتے تھے تو اتوار کو چھٹی کے دن کسی دوست کے ہاں چلے جاتے اور اس کے بچوں کے لیے تحائف اور کھانے پینے کی اشیا ہمراہ لے جاتے تھے۔ شام گئے گھر واپس لوٹتے۔ یوں بھی ہوتا کہ باقی دوست تو گھر سے باہر موج مستی کررہے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں کسی ایک گھر میں جمع ہو جانے والے ان کے بیوی بچوں کی ناز برداری بدرالدین بدر کررہے ہیں۔
سنہ 1947 میں لاہور میں قبضے، کلیم اور جعلی الاٹمنٹوں کا دور دورہ تھا۔ بیماری بدر کی جان کے لاگو تھی لیکن وہ اس حالت میں بھی ایک ہندو دوست کے مفادات کے تحفظ کی کوششوں میں جان گھلاتے رہے۔
محمود نظامی کے بقول ’افسوس 1948 کے وسط میں یہ عجیب و غریب شخصیت تین ماہ دق کے آخری مدارج میں الجھ کر اللہ کو پیاری ہوگئی۔ ایک ہندو دوست کے ہوٹل کو مقامی لوگوں کی دستبرد سے محفوظ رکھنے کے لیے بدر نے اپنی جان پر ایسی ایسی آفتیں جھیلیں کہ صحت جواب دے گئی۔ آخر دق ہوئی اور ایسے عالم میں کہ اسپتال میں ان کے نزدیک کوئی بھی نہ تھا وہ انتقال کر گئے۔‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












