امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور جاری سفارتی مذاکرات کے حوالے سے آج اتوار کو کسی اہم پیشرفت یا اعلان کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو ’اچھی خبر‘ مل سکتی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی‘،صدر ٹرمپ کا ایران سے امن معاہدے میں بڑی پیشرفت کا دعویٰ
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں امکان موجود ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر ملے گی۔ تاہم انہوں نے ممکنہ اعلان کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے اور اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات پر کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی امن کوششیں قابلِ تحسین، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم شہباز شریف
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کئی اہم امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔
I welcome the progress towards an agreement between the US and Iran.
We need to see an agreement that brings the conflict to an end and reopens the Strait of Hormuz, with unconditional and unrestricted freedom of navigation. It’s vital that Iran must never be allowed to develop…
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) May 24, 2026
ادھر برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا معاہدہ ضروری ہے جو تنازع کا خاتمہ کرے اور آبنائے ہرمز میں غیر مشروط اور آزاد بحری آمد و رفت یقینی بنائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔
President @RTErdogan held a teleconference with President Donald J. Trump of the United States, King Hamad bin Isa Al Khalifa of Bahrain, President Sheikh Mohammed bin Zayed Al Nahyan of the United Arab Emirates, Emir Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani of Qatar, President Abdel…
— Presidency of the Republic of Türkiye (@trpresidency) May 24, 2026
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر علاقائی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں کہا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ترکی ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو ایک جامع فریم ورک معاہدے تک پہنچنا چاہیے جو جنگ بندی کو مضبوط بنائے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ یقینی کرے اور خطے کے تمام ممالک کے سکیورٹی مفادات کا تحفظ کرے۔
I have received encouraging indications from leaders in West Asia that negotiations towards a framework agreement between the United States and Iran, including the reopening of the Strait of Hormuz, are proceeding on a progressive trajectory. I view these developments with… pic.twitter.com/Z8NLyKSrO1
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) May 24, 2026
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو خطے میں امن اور سفارتی حل کے مشترکہ مقصد کے مزید قریب لے جانے والا اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور استحکام کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد اسلام آباد میں کی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف علاقائی ممالک سفارتی رابطوں میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔














