وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جلد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کوششوں‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ ہونے والا حالیہ ٹیلیفونک رابطہ انتہائی مفید اور مثبت رہا۔
اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے امن عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
I congratulate President Donald Trump on his extraordinary efforts to pursue peace and for holding a very useful and productive telephone call earlier today, with the leaders of Saudi Arabia, Qatar, Turkiye, Egypt, the UAE, Jordan and Pakistan. Field Marshal Syed Asim Munir…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 24, 2026
وزیراعظم کے مطابق اس گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 23, 2026
پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ممکن ہوا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم بات چیت تعطل کا شکار بھی نہیں ہوئی تھی۔
بعدازاں صدر ٹرمپ نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کردیا تھا، جہاں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا۔ تاہم انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کردی تھی۔
تازہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں محدود وقت کے اندر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق، 24 گھنٹوں میں اعلان متوقع، امریکی اخبار کا دعویٰ
اسی ہفتے کے اختتام پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ اس معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
دریں اثنا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز تہران کا اعلیٰ سطحی دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں ’حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، امریکا اور ایران ممکنہ معاہدے پر آمادہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مسلسل ان سے رابطے میں ہے اور امریکی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو ’قابلِ تعریف‘ قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات اب محض سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر تفصیلی امور پر بات چیت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں۔
پاکستان نے مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ کو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ تہران بھیجا گیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر، اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔














