پی ٹی آئی نے حکومت سے حالیہ رابطوں کے معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر ملاقات کی تھی۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ ملاقات میں خیبرپختونخوا، خصوصاً بنوں میں دہشت گردی کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کی ایران امریکا ثالثی کے بعد پی ٹی آئی پریشان کیوں؟
انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز، امن کمیٹی اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے شدید تصادم میں 2 پولیس اہلکاروں اور دو شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 25 دہشت گرد مارے گئے۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق وزیر داخلہ نے زیادہ تر گفتگو اس بات پر کی کہ دہشتگردی پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے، جبکہ سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری اور ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی جو کہ رپورٹ کی جا رہی ہے- https://t.co/JQkBKs5Z17
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) May 24, 2026
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر علیمہ خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ وہ ملاقات میں موجود تھیں۔
علیمہ خان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات کی۔ ‘ہمارے خاندان کو اس ملاقات کا علم نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کا کوئی فرد اس میں شریک تھا۔’
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت سازی: انتظامی و پولیس افسران پریشان کیوں؟
شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ علیمہ خان ملاقات کا حصہ تھیں۔ ‘صرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بیرسٹر گوہر نے شرکت کی، اور ملاقات کا مقصد خیبرپختونخوا خصوصاً بنوں میں دہشت گرد حملوں پر گفتگو تھا۔’
بعد ازاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات میں بنوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات اور صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بات ہوئی، جبکہ اس میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: جلسوں کے بجائے ’شادی ڈپلومیسی‘، پی ٹی آئی کی پنجاب میں نئی حکمت عملی کیا ہے؟
ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں 2 مرتبہ، منگل اور جمعرات کو، اہل خانہ، وکلا اور ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق کئی ہفتوں سے انہیں ملاقاتوں کی اجازت نہیں مل سکی۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، پارٹی کے مطابق جنوری کے آخر میں ان میں دائیں آنکھ کی بیماری ‘سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن’ کی تشخیص ہوئی تھی۔












