کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی انتظامیہ نے منسوخ شدہ جائیدادوں کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے ادارے کے لیگل ونگ کو اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں کمرشل اور رہائشی پلاٹس عدالتی تنازعات کا شکار ہیں اور انتظامیہ نے ایسے تمام کیسز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے ایسے کیسز کو نہیں چھوڑے گی جس میں کوئی شخص سی ڈی اے کی جائیداد پر بغیر کسی مضبوط قانونی جواز کے قابض ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: بری امام میں سی ڈی اے آپریشن روکنے کی استدعا مسترد، درخواست واپس
حال ہی میں سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو نے ادارے کے لیگل ونگ کو ہدایت دی ہے کہ تمام منسوخ شدہ پلاٹس اور ان سے متعلقہ مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ منسوخ شدہ رہائشی، کمرشل، بزنس، زرعی فارمز، صنعتی نوعیت کے پلاٹس پر کوئی فالو اپ کارروائی نہیں کی جا رہی۔
سابق الاٹیز اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر محتاط خریداروں کے ساتھ مستقبل کی فروخت کے معاہدے کر رہے ہیں جس سے سی ڈی اے کے مالی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں تمام منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے چارج سنبھال لیا
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ تمام متعلقہ افسران منسوخ شدہ پلاٹس، بالخصوص زیرِ التوا مقدمات والے پلاٹس کی فہرستیں تیار کریں اور 3 دن کے اندر دفتر میں جمع کرائیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سی ڈی اے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی کارروائی کریں۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کی کئی جائیدادیں مبینہ طور پر غیر ضروری اور طویل عدالتی تنازعات کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو اتاترک ایونیو پر درختوں کی کٹائی سے روک دیا
سی ڈی اے نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ہر کیس کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی، بشمول کیس فائل کی تاریخ کے ساتھ تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے وکلا کی بڑی تعداد اور مکمل لیگل ونگ موجود ہے۔
حال ہی میں کچھ منسوخ شدہ پلاٹس سابق الاٹیز اور نئے خریداروں کے درمیان اسٹامپ پیپر یا معاہدوں کے ذریعے مارکیٹ میں فروخت کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
جس کے بعد سی ڈی اے نے تمام منسوخ شدہ پلاٹس کی تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔














