بھارت کے شہر بنگلورو میں یوگنڈا سے آنے والی 28 سالہ خاتون میں ایبولا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آنے کے بعد اسے قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق خاتون نے بھارت پہنچنے کے تقریباً ایک روز بعد جسم درد کی شکایت کی، جس کے بعد اس کے نمونے ٹیسٹ کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (این آئی وی) پونے بھجوائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:ایبولا کا ایک کیس بھی عالمی خطرہ بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی ٹیسٹ میں خاتون میں ایبولا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم طبی حکام نے احتیاطی تدابیر کے تحت خاتون کو مزید 48 گھنٹے نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کو اس وقت تک اسپتال سے فارغ نہیں کیا جائے گا جب تک اس کے دو ٹیسٹ منفی نہ آ جائیں۔

ریاست کرناٹک کے سرکاری وبائی امراض اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انول کمار بناگر کے مطابق خاتون یوگنڈا سے سفر کر کے احمد آباد کے راستے بنگلورو پہنچی تھی۔ ایئرپورٹ اسکریننگ کے دوران اس میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم بعد میں ہلکے جسمانی درد کی شکایت سامنے آئی جس کے بعد فوری نگرانی شروع کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایبولا اور ہنٹا وائرس کے خطرات، سعودی عرب نے زائرین کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا
بھارتی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ملک میں فی الحال ایبولا کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ہدایات کے مطابق نگرانی اور اسکریننگ مزید سخت کی جا رہی ہے۔ عوام سے افواہیں نہ پھیلانے اور خوف و ہراس سے بچنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے حالیہ ایبولا وبا کو عالمی صحت کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔ یہ وبا خاص طور پر یوگنڈا اور کانگو میں پھیل رہی ہے، جبکہ روانڈا اور جنوبی سوڈان سمیت کئی ممالک نے بھی ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایبولا ایک خطرناک وائرس ہے جس کی شرح اموات ماضی کی مختلف وباؤں میں 25 سے 90 فیصد تک رہی ہے، جبکہ اوسط شرح تقریباً 50 فیصد بتائی جاتی ہے۔
بھارت میں اس سے قبل 2014 میں ایبولا کا کیس رپورٹ ہوا تھا، جس کے بعد اب تقریباً 12 برس بعد دوبارہ ایبولا کے مشتبہ مریض کی اطلاع سامنے آئی ہے۔














