حج کا آخری مرحلہ: لاکھوں عازمین کی رمی، شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل جاری

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب میں حج کے آخری مرحلے کے دوران لاکھوں عازمینِ حج نے بدھ کے روز منیٰ میں رمیِ جمرات کی رسم ادا کرتے ہوئے شیطان کی علامتی نشانیوں پر کنکریاں ماریں۔ اس موقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمان عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ اس اہم رکنِ حج میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی حجاج سے عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل

عرب نیوز کے مطابق فجر کے بعد ہی لاکھوں حجاج منیٰ کی وادی میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے بڑے جمرات پر کنکریاں مار کر حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو تازہ کیا۔ اسلامی روایت کے مطابق شیطان نے حضرت ابراہیمؑ کو اللہ کے حکم کی تعمیل سے روکنے کی کوشش کی تھی، جس پر آپؑ نے تین مقامات پر اسے کنکریاں ماریں۔

حکام کے مطابق اس سال 17 لاکھ سے زائد مسلمان فریضۂ حج ادا کر رہے ہیں۔ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔

شدید گرمی کے باوجود حجاج نے مختلف مناسکِ حج ادا کیے۔ منگل کے روز لاکھوں عازمین نے میدانِ عرفات میں وقوف کیا،  اس دوران درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

عرفات سے واپسی پر حجاج نے مزدلفہ میں رات گزاری اور وہیں سے رمی کے لیے کنکریاں جمع کیں۔ رمیِ جمرات کے بعد حجاج مکہ مکرمہ واپس جائیں گے جہاں وہ خانۂ کعبہ کا الوداعی طواف ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی حجاج کے لیے سہولیات پر وزیر داخلہ کا سعودی عرب کو خراجِ تحسین، انتظامات کو سراہا

حج کا اختتامی مرحلہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ادا کیا جا رہا ہے، جو حضرت ابراہیمؑ کی اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے لیے آمادگی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر مسلمان سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی بھی کرتے ہیں اور گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp