بھارت میں ایبولا وائرس سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس کے بعد تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر کسی بڑے پھیلاؤ یا ہنگامی صورتحال کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم صحت کے حکام نے صورتحال پر نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایبولا کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آگیا، یوگنڈا سے آنے والی خاتون قرنطینہ منتقل
بھارت کے مختلف شہروں خصوصاً بنگلورو اور احمد آباد کے حوالے سے ایبولا سے متعلق خدشات اور افواہیں گردش کر رہی ہیں، جس کے بعد عوامی سطح پر بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک مشتبہ کیس مبینہ طور پر بیرونِ ملک متاثرہ علاقے سے بھارت پہنچا اور بعد ازاں ملک کے اندر سفر بھی کیا، تاہم ان دعوؤں کی کسی سرکاری ادارے یا عالمی صحت تنظیم نے تصدیق نہیں کی۔
عالمی صحت کے ادارے پہلے ہی افریقہ میں وبائی امراض کے حوالے سے الرٹ پر ہیں، لیکن بھارت میں فی الحال کسی ہنگامی صحت عامہ کی صورتحال کا اعلان نہیں کیا گیا۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں حتمی اور مستند معلومات صرف سرکاری ذرائع سے ہی حاصل کرنی چاہئیں، کیونکہ غیر مصدقہ خبریں عوام میں خوف اور غلط فہمی کو بڑھا سکتی ہیں۔














