امریکا ایران مجوزہ معاہدہ: ٹرمپ کی حتمی منظوری تاحال باقی، جوہری نکات پر مذاکرات جاری، سی این این کا دعویٰ

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق ایک ابتدائی معاہدے پر پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری اب بھی باقی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری بیک ڈور سفارتکاری میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، لیکن جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم سے متعلق چند حساس نکات پر مذاکرات تاحال جاری ہیں، جس کے باعث معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کرسکا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن معرکۂ حق کے بعد پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت، ایران امریکا بالواسطہ مذاکرات اور پاکستانی سفارت کاری کا مستقبل

سی این این کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی ’چند نکات کی زبان‘ پر بات چیت جاری ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صدر ٹرمپ اس معاہدے کی منظوری کب دیں گے؟ یا دیں گے بھی یا نہیں۔

جے ڈی وینس کے بقول ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور یورینیم افزودگی سے متعلق معاملات اب بھی زیر بحث ہیں، تاہم امریکا کو یقین ہے کہ ایران اب تک نیک نیتی سے مذاکرات کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے گی اور اس اہم گزرگاہ پر امریکی پابندیاں نرم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام پر مزید 60 روزہ مذاکرات کا آغاز بھی معاہدے کا حصہ ہوگا، جن میں سب سے پیچیدہ معاملات طے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو

دوسری جانب دیگر بین الاقوامی میڈیا نے مذاکراتی ٹیم سے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کا متن ابھی حتمی نہیں ہوا اور نہ ہی اسے باضابطہ منظوری ملی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے پاکستانی ثالث کو بھی تاحال کسی حتمی متن سے آگاہ نہیں کیا۔

ادھر خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب چار بحری جہازوں پر وارننگ فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز ’پیشگی اجازت اور رابطے‘ کے بغیر آبی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی علاقوں سے بعض ’اہم اہداف‘ کی جانب میزائل بھی داغے گئے، تاہم اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سی این این کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران زیر زمین تنصیبات میں محفوظ اپنے وسیع میزائل ذخائر تک دوبارہ رسائی حاصل کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں کے باوجود ایران بھاری مشینری کی مدد سے تباہ شدہ داخلی راستے دوبارہ کھولنے میں مصروف ہے، جس سے امریکی دعوؤں پر سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ ایران کا میزائل نظام تقریباً تباہ کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کا انحصار صدر ٹرمپ کے فیصلے پر ہوگا اور ٹرمپ امریکی عوام کے لیے ’خراب معاہدہ‘ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے عمان کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مسقط نے آبنائے ہرمز میں ایران کی حمایت کی تو واشنگٹن اقتصادی اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔

یاد رہے کہ عمان گزشتہ کئی برسوں سے امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں میں اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ جنگی صورتحال اور امریکی بیانات کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp